5 مارچ کو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری، چین کے صدر اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ نے ، چودھویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس میں جیانگ سو وفد کے مباحثے میں شرکت کی۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ "15 ویں پانچ سالہ منصوبے" کے اقتصادی و سماجی ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے زیادہ پیچیدہ حالات کا مقابلہ کرنے اور مزید گہرے تضادات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ جیانگ سو جیسے معاشی طور پر بڑے صوبے، اصلاحات اور کھلے پن کا ہراول دستہ ہیں ، انہیں نئے حالات کا مشاہدہ کرنے اور نئے مسائل کے حل پر محنت کرنی چاہیے اور تجربات فراہم کرنے چاہئیں۔
جیانگ سو وفد کے نمائندوں نے جدید طرز کی صنعت کاری کو آگے بڑھانے، سائنسی و تکنیکی اختراع اور صنعتی جدت کے انضمام کو فروغ دینے، بنیادی کلیدی ٹیکنالوجیز میں رکاوٹوں کو دور کرنے، ہم آہنگ اور خوبصورت دیہی علاقوں کی تعمیر، بیج کی صنعت کے مسائل کے حل اور کھیلوں کے جذبے کو فروغ دینے جیسے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔
شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں نشاندہی کی نئے معیار کی پیداواری قوتوں کی ترقی، اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے اور معاشی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جیانگ سو اس حوالے سے بہتر بنیاد رکھتا ہے اور اسے کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اس میدان میں صفِ اول میں رہے۔
شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ چینی طرز کی جدیدیت تمام عوام کی مشترکہ خوشحالی پر مبنی جدیدیت ہے، اس لیے جیانگ سو کو پورے معاشرے کی مشترکہ خوشحالی کو آگے بڑھانے کے مؤثر راستے تلاش کرنے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسی عملی کامیابیاں حاصل کی جائیں جو عملی تجربے، عوام اور تاریخ کی کسوٹی پر پورا اتریں۔
شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ سی پی سی کی سخت ہمہ جہت نگرانی کو برقرار رکھا جائے تاکہ قومی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مضبوط قوت کو مجتمع کیا جا سکے۔
