• صفحہ اول>>سیاست

    چین جائیے اور ملک بھر میں "سبز کہانیاں"  دریافت کیجیے: ایرک سولہیم کا پیپلز ڈیلی کے ساتھ انٹرویو

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-03-19

    مومباسا-نائروبی اسٹینڈرڈ گوج کینیا کا ایک نیچر ریزرو جہاں پس منظر میں شہر کا انفراسٹرکچر بھی نظر آرہا ہے۔ (تصویر/حوانگ وئے شن)

    مومباسا-نائروبی اسٹینڈرڈ گوج کینیا کا ایک نیچر ریزرو جہاں پس منظر میں شہر کا انفراسٹرکچر بھی نظر آرہا ہے۔ (تصویر/حوانگ وئے شن)

    19 مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)اقوام متحدہ کے سابق نائب سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایرک سولہیم، اس وقت یورپ-ایشیا سینٹر کے شریک صدر کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

    طویل عرصے سے عالمی ماحولیاتی تعاون کے حامی ،ایرک سولہیم نے چین کی پائیدار ترقی کے تمام پہلووں کا مشاہدہ کیا ہے اور ملک کی سبز تبدیلی کی کوششوں میں عملی طور پر شرکت کی ہے ۔

    چین کے منصوبوں کی ایک بڑی تعداد اقوام متحدہ کا سب سے بڑا ماحولیاتی اعزاز "چیمپئنز آف دی ارتھ" حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے حوالے سے ایرک سولہیم کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے پہلی بار اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی، تو ایک حیرت انگیز بات محسوس کی کہ بہت کم چینی منصوبوں نے ، "چیمپئنز آف دی ارتھ" ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ یہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ چین کے پاس کامیاب کیسز کی کمی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ بہت سے جائزہ لینے والے حقیقی میدان سے دور ہزاروں کلومیٹر دور ،دفاتر میں بیٹھے تھے اس لیے چین اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں ہونے والی سبز تبدیلی کو صحیح معنوں میں دیکھنے سے قاصر تھے۔ جب کا ان کا ماننا تھا کہ اگر لوگ چین جانے اور خود دیکھنے کے لیے تیار ہیں، تو وہ ملک بھر میں سبز کہانیاں دریافت کریں گے۔

    سبز تبدیلی میں چین کی تیز رفتار ترقی کے بارے میں ایرک سولہیم کا کہنا ہے کہ ،صدر شی جن پھنگ نے یہ "صاف پانی اور سرسبز پہاڑ قیمتی اثاثے ہیں"کا جو تصور پیش کیا وہ ان کے دل کے قریب ہے۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ چین اب اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو متضاد ترجیحات کے طور پر نہیں دیکھتا۔ بلکہ، یہ دونوں ایک ساتھ اور باہمی تعاون کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں۔چین کی تیز سبز تبدیلی کی کلید ،اس کے انتہائی مستحکم اور مسلسل ترقی پذیر ماحولیاتی گورننس کے نظام میں ہے۔

    چین کی پالیسیز میں طویل مدتی مستقل مزاجی ہے۔ 2035 تک کے طویل مدتی مقاصد سے لے کر 2049 کے 'دو صدیوں کے مقاصد' تک، چین دہائیوں پر محیط سٹریٹجک وژن تیار کرنے میں ماہر ہے اور انہیں مسلسل پانچ سالہ منصوبوں کے ذریعے مستحکم طور پر نافذ کرتا ہے۔ سٹریٹجک تسلسل کی یہ قسم ایک منفرد ادارتی طاقت ہے جس سے بہت سے ممالک سیکھ سکتے ہیں۔

    اسی وقت، چینی مارکیٹ متحرک اور مسابقتی ہے۔ ادارے تکنیکی ترقی کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں ، لاگت کم کررہے ہیں اور صلاحیت کو بڑھارہے ہیں۔ مؤثر حکومتی رہنمائی اور مارکیٹ وسائل کی مؤثر تقسیم کو ملا کر، چین کی سبز تبدیلی نے متحرک انداز میں تیز رفتار حاصل کی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ایک نسبتاً مختصر مدت میں، چین نے شاندار ماحولیاتی نتائج حاصل کیے ہیں اور ساتھ ہی لوگوں کی معیارِ زندگی کو بھی نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے اسی لیے چین کا تجربہ بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے قیمتی سیکھ فراہم کرتا ہے۔

    چین کے مشرقی صوبے جہ جیانگ کے شہر ہانگ جو میں ، مقامی رہائشیوں کے ساتھ رضاکارانہ ماحولیاتی سرگرمی میں شامل سولہیم (بائیں جانب ) ۔ (سولہیم کی جانب سے فراہم کردہ تصویر )

    چین کے مشرقی صوبے جہ جیانگ کے شہر ہانگ جو میں ، مقامی رہائشیوں کے ساتھ رضاکارانہ ماحولیاتی سرگرمی میں شامل سولہیم (بائیں جانب ) ۔ (سولہیم کی جانب سے فراہم کردہ تصویر )

    چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے میں، جن پہلوؤں پر سولہیم نے زیادہ توجہ دی ان میں نئی معیاری پیداواری قوتوں اور سبز ترقی شامل ہیں۔ پہلے میں جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں جیسے کہ AI، بڑی ڈیٹا اور جدید مینوفیکچرنگ؛ جب کہ دوسرا ،جامع سبز تبدیلی کو فروغ دیتا ہے۔ یہ دونوں علیحدہ نہیں ہیں یہ ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں اور باہمی طور پر منسلک ہیں۔ایک طرف، نئی ٹیکنالوجیز سبز انقلاب کو تیز کر رہی ہیں، مثلاً حواواے ، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے صوتی تجزیے کا استعمال کرتے ہوئے ہائی نان کے لنگوروں کی نگرانی کرتا ہے، جس سے ہدفی تحفظ ممکن ہوتا ہے۔ توانائی کی کمپنیز انٹیلی جنٹ الگوردھمز کا استعمال کرتے ہوئے بجلی کے گرڈز کو ہم آہنگ کرتی ہیں، ہوا، شمسی، ہائیڈرو پاور اور سٹوریج سسٹمز کو یکجا کرتی ہیں۔

    دوسری طرف، سبز توانائی ٹیکنالوجی کی ترقی کی بنیاد ہے۔ کم قیمت، بڑے پیمانے پر صاف توانائی کے بغیر، ہم اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی بڑی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتے۔ سبز توانائی ٹیکنالوجی کی ترقی کو قوت فراہم کرتی ہے جو پھر سبز ترقی کو آگے بڑھاتی ہے۔

    ایرک سولہیم کا کہنا ہے کہ چین کی ماحولیاتی تحفظ کی کوشش اور سبز تبدیلی صرف نظریات کی بنیاد پر نہیں ہے کیونکہ ایسی کوشش پائیدار نہیں ہوگی۔ اس میں اقتصادی قابلیت بھی ہونی چاہیے۔ دو دہائیوں پہلے کے مقابلے میں، شمسی ماڈیولز کی قیمت 2005 کی سطح کے 5 فیصد سے بھی کم ہو گئی ہے۔ قیمت میں یہ 95 فیصد کی کمی شدید مارکیٹ مسابقت اور مسلسل تکنیکی ترقی کی وجہ سے ہوئی ہے، جس میں چین کا اہم کردار ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بہت سے ترقی پذیر علاقوں میں لوگوں کو فوری طور پر غربت سے نجات دلانے اور قابل اعتماد بجلی حاصل کرنے کی ضرورت ہے، لیکن توانائی سستی ہونی چاہیے۔ اگر چین نہ ہوتا تو عالمی سبز تبدیلی رک تو نہ جاتی ، لیکن یہ بہت زیادہ مہنگی اور بہت سست ہو جاتی۔ اگر کچھ مغربی ممالک سبز کوششوں کے لیے چین کے ساتھ تعاون سمیت زیادہ کھلا رویہ اپنائیں تو اس کا مشترکہ فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس تناظر میں، چین سرمایہ کاری، تعاون اور ٹیکنالوجی کی شراکت کے ذریعے عالمی سبز تبدیلی کو مزید فروغ دے سکتا ہے۔

    ایرک سولہیم نے چین کی سبز ٹیکنالوجیز کےتوانائی کی خود مختاری کے لیے نقصان دہ ہونے کے مفروضے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ، حقائق اس مفروضے کے برعکس ہیں۔ہر ملک کے پاس قدرتی وسائل ہیں جنہیں ترقی دی جا سکتی ہے۔ جب آپ چینی سبز ٹیکنالوجیز مثلاً شمسی پینل، درآمد کرتے ہیں تو آپ اپنے مقامی وسائل کا استعمال کر رہے ہیں اور یہ تیل جیسی توانائی کی درآمد سے بہت مختلف ہے۔ شمسی، پون یا آبی توانائی پر اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھ کر، ایک ملک اپنے وسائل کا استعمال کرتا ہے اور توانائی کی خود مختاری حاصل کر سکتا ہے۔ اس طرح، بین الاقوامی تعاون مقامی ٹیکنالوجیوں کو اپ گریڈ کرنے اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے میں مدد کر سکتا ہے۔

    ایرک کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلی کا سامنا کرنا، ماحولیاتی بحرانوں کا حل نکالنا اور غربت کا خاتمہ عالمی ذمہ داریاں ہیں۔ تعاون کے ذریعے، ان چیلنجز کا حل ممکن ہے۔ تاہم، تقسیم اور تصادم چھوٹے مسائل کو بھی ناقابل حل بنا سکتے ہیں۔

    زبان