امریکی مشرقی وقت کے مطابق 21 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ" امریکہ نے ایران کو مکمل طور پر نقشے سے مٹا دیا ہے۔" اس کے جواب میں 22 مارچ کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ "دھمکیاں ایران کے اتحاد کو مزید مضبوط کریں گی۔ آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلا ہے، سوائے ان کے جو ایران کی سرزمین پر جارحیت کرتے ہیں۔ ایران ان دیوانہ وار دھمکیوں کا میدانِ جنگ میں بھرپور مقابلہ کرے گا۔"
ٹرمپ نے 21 مارچ کی شب ایک اور بیان میں ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو کھول دے، بصورت دیگر امریکہ ایران کے "ہر قسم کے پاور پلانٹس" کو نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا۔ اس پر 22 مارچ کو ایرانی مسلح افواج نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ان دھمکیوں پر عمل کیا گیا تو ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کی مکمل بندش سمیت چار "جوابی اقدامات" کرے گا۔
22 مارچ کو ایرانی محکمۂ صحت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ موجودہ تنازع کے آغاز سے اب تک تقریباً 210 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 18 سال سے کم عمر زخمیوں کی تعداد 1510 سے تجاوز کر گئی ہے۔
ادھر لبنان کی وزارتِ صحت نے 22 مارچ کو اعلان کیا کہ 2 مارچ سے 22 مارچ کے دوران اسرائیل کے حملوں میں لبنان میں 1029 افراد جاں بحق اور 2786 زخمی ہو چکے ہیں۔



