• صفحہ اول>>تبصرہ

    پیپلز ڈیلی کا تبصرہ: "ایران کے معاملے میں چین غیر فعال ہے"  کے مغربی دعوؤں کی تردید

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-03-24

    تصویر: چھن شیاء/ گلوبل ٹائمز

    تصویر: چھن شیاء/ گلوبل ٹائمز

    جیسے جیسے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں سے پیدا ہونے والا بحران شدید اختیار کرتا جا رہا ہے ، بعض مغربی ذرائع ابلاغ چین سے متعلق بیانیے گھڑنے میں مصروف ہیں اور "چین ایران کے معاملے میں غیر فعال ہے" یا "چین اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے" جیسے مضحکہ خیز دعوؤں کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہ بیانیے دراصل الزام تراشی اور توجہ ہٹانے کی ایک اور کوشش ہیں۔

    چین کے خلاف یہ بدنامی کی مہم اکثر مغربی میڈیا کی جانب سے ادراکی جنگ میں کئے جانے والے ایک مانوس حربے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

    جب روس-یوکرین تنازع شروع ہوا تو انہوں نے انصاف اور توازن کو برقرار رکھنے اور امن مذاکرات کو فروغ دینے کی چین کی کوششوں کو نظر انداز کیا، اور چین پر "جنگ سے منافع کمانے" کا الزام لگایا۔ جب ان کا اپنا صنعتی شعبہ زوال کا شکار ہوا تو انہوں نے پلٹ کر چین کی نئی توانائی والی گاڑیوں کی صنعت پر نام نہاد 'ضرورت سے زیادہ صلاحیت' کا الزام لگایا۔ جب بھی انہیں "دشمن" کی ضرورت ہوتی ہے، وہ چین کو "خطرہ" قرار دیتے ہیں۔ جب بھی انہیں " ہدف" کی ضرورت ہوتی ہے، وہ چین کو " ہدف" بنا دیتے ہیں۔

    کچھ مغربی ذرائع ابلاغ کے خطاب میں، جب تک کوئی بیانیہ ان کے اپنے ایجنڈے کو پورا کرتا ہے، اندرونی تناؤ کو کہیں اور منتقل کرنے میں مدد کرتا ہے، یا سیاست دانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے، وہ سچائی کو نظر انداز کرنے، حقائق کو مسخ کرنے اور حتیٰ کہ بنیادی اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کرنے کو بھی تیار ہیں۔ ایک بار جب یہ حقیقت تسلیم کر لی جائے تو کچھ مغربی ذرائع ابلاغ کے مرتب کردہ بیانیہ کے جال میں پھنسنے سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔

    ان حربوں کا بار بار استعمال بالآخر ان کی سوچ میں سرایت کرنے والے ایک گہرے تکبر اور تعصب کی عکاسی کرتا ہے جو ایک تنگ اور سخت مغربی مرکزیت کے خیال پر مبنی ہے۔

    طاقت کی سیاست کی منطق پر یقین رکھتے ہوئے، کچھ مغربی ذرائع ابلاغ یہ ماننے سے انکاری ہیں کہ چین اس تصور سے ماورا ہو سکتا ہے کہ "ایک طاقتور ملک لامحالہ بالادستی کا خواہاں ہوگا"۔ بین الاقوامی تعلقات کو صفر- جمع کے مقابلے کے عینک سے دیکھتے ہوئے، وہ ہم آہنگی، بقائے باہمی اور باہمی فائدہ مند تعاون جیسے تصورات کی گہرائی کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ نام نہاد "تھیوسیڈائیڈز ٹریپ" کی ذہنیت میں جکڑے ہوئے، وہ چین کی ترقی کو ایک موقع سمجھنے سے قاصر ہیں۔ خیالات میں یہ عدم مطابقت وضاحت کرتی ہے کہ کیوں کچھ مغربی ذرائع ابلاغ اب بھی چین کو معروضی طور پر دیکھنے اور اسے جامع طور پر سمجھنے میں مشلکل کا شکار ہیں۔

    بہتان، افواہ اور تحریف کا سب سے طاقتور جواب ٹھوس اقدامات میں ہے۔

    ایک ذمہ دار بڑے ملک کے طور پر، چین تاریخ کے صحیح رخ پر ثابت قدم ہے۔ چین کے وزیر خارجہ نے ایران کی صورتحال پر سفارتی ثالثی کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جو امن اور کشیدگی میں کمی کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔ مشرق وسطیٰ کے معاملات پر چینی حکومت کے خصوصی ایلچی نے کشیدگی کم کرنے میں مدد کے لیے خطے کا دورہ کیا ہے۔ چین نے اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے فورمز پر بھی بین الاقوامی انصاف اور مساوات کے دفاع کے اصولی موقف کا اظہار کیا ہے۔ آگ بھڑکا کون رہا ہے اور امن کی حفاظت کون کر رہا ہے یہ سب پر عیاں ہے۔ چین نے ہمیشہ ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ طاقت کا استدلال طاقت کے برابر نہیں ہوتا۔ چین کا یہ اصرار کہ حساس مسائل کو مساویانہ مذاکرات اور سیاسی حل کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اسکی تاریخی وضاحت اور طویل مدتی نقطہءنظر کی عکاسی کرتا ہے۔

    چین "عوام کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے تمام ممالک کے وسیع تر مفادات کی پیروی" کے اصول کو برقرار رکھتا ہے۔ چین قول میں سچا اور عمل میں ثابت قدم ہے۔ جن افریقی ممالک کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات ہیں، ان سے درآمدات پر آنے والے 100 فیصد ٹیرف لائنز پر صفر ٹیرف کے آئندہ نفاذ سے لے کر، دنیا بھر میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی اعلیٰ معیار کی ترقی، چار بڑے عالمی اقدامات کے فعال نفاذ تک, چین امن، استحکام اور انصاف کے لیے دنیا کی سب سے اہم قوتوں میں سے ایک بن گیا ہے، جسے بہت سے ممالک میں لوگوں کے تجربات کے ذریعے تیزی سے تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    آج کی دنیا ہنگامہ خیزی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ تنازعات، بحرانوں اور بدنامی کی مختلف مہمات کے باوجود، چین ہچکچائے گا نہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹے گا۔ اس کے بجائے، یہ ٹھوس اقدامات کے ذریعے ایک ہنگامہ خیز دنیا میں پائیدار استحکام اور یقینیت کے عمل کی کوشش جاری رکھے گا، استدلال کی طاقت سے انصاف کو برقرار رکھے گا، اور ایک بڑے ملک کی ذمہ داری کے ساتھ عالمی بہبود میں اپنا حصہ ڈالتا رہے گا۔

    ویڈیوز

    زبان