• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    ڈرونز اسمارٹ بہاری کاشتکاری کے لیے "نئے زرعی اوزار" بن گئے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-03-25

    25 مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)دستی کاشتکاری اور تجربے پر انحصار کے روایتی طریقوں سے آگے بڈھ کر اب ڈیٹا کے حساب اور الگورتھمز کے ذریعے پیداوار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ڈرونز اور روبوٹس جیسے جدید آلات کسانوں کے لیے بہار کی کاشتکاری کے "نئے اوزار" بن چکے ہیں۔

    اس وقت چین زرعی ڈرونز کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔ زرعی ڈرونز کی تعداد 3 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ سالانہ آپریشن کا رقبہ 460 کڑوڑ ایکڑ سے زیادہ ہو گیا ہے۔

    ڈرونز کا استعمال فصلوں کے تحفظ، بیج بونے اور کھاد ڈالنے، کھیتوں کی نگرانی، زرعی سامان اور زرعی مصنوعات کی نقل و حمل جیسے شعبوں میں مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ جدید زرعی اوزار زرعی پیداوار کے استحکام اور آمدنی میں اضافے کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی پر مبنی کاشتکاری کے لیے ایک "نیا انجن" بھی فراہم کر رہے ہیں۔

    ویڈیوز

    زبان