• صفحہ اول>>دنیا

    ایران کی جنگ کے خاتمے کی شرائط، امریکہ کا مزید فوجی تعیناتی کا اعلان

    (CRI)2026-03-26

    ایران کے سپریم لیڈر کے نئے فوجی مشیر محسن رضائی نے 23 مارچ کو ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ ایران اس وقت تک جنگ ختم نہیں کرے گا جب تک اسے مکمل ہرجانہ ادا نہیں کیا جاتا، تمام معاشی پابندیاں ختم نہیں ہوتیں اور امریکہ کی جانب سے ایران کے امور میں عدم مداخلت کی بین الاقوامی قانونی ضمانت فراہم نہیں کی جاتی۔

    24 مارچ کو موصول اطلاعات کے مطابق امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو جنگ کے خاتمے کے لیے 15 نکات پر مشتمل ایک منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور علاقائی امور شامل ہیں۔ اسی روز پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اسے بامعنی اور فیصلہ کن مذاکرات کی جانب قدم قرار دیا۔

    مزید برآں،چوبیس مارچ کی اطلاعات کے مطابق امریکی فوج کی 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے کچھ دستوں کو جلد مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیا جا رہا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک ایران کے اندر 9000 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جس سے ایرانی عسکری صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔

    ادھر 24 مارچ کو رات تقریباً نو بجے ایران کے جنوبی علاقے میں واقع بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ایک بار پھر حملہ کیا گیا۔ دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اسی روز اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بیان میں مشرقِ وسطیٰ میں توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان