
2 جنوری 2026۔ مشرقی چین کے صوبے جہ جیانگ کے شہر ہانگ جو میں واقع ایک اسکی ریزورٹ میں سیاحوں کا ہجوم۔ (تصویر: ہو جیان چھیانگ)
26 مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)شمال مشرقی چین کے صوبے ہیلونگ جیانگ میں واقع چین کے سب سے شمالی شہر موحہ میں مارچ کا درجہ حرارت اب بھی منفی 20 ڈگری سیلسیس سے نیچے گر جاتا ہے۔ تاریخی طور پر یہ علاقہ اپنے جغرافیائی محل وقوع اور سخت سردی کی وجہ سے پہچانا گیا ہے اور یہی حالات کبھی اس شہر کے لیے اہم ترقیاتی مشکلات کا باعث تھے۔
تاہم، آج موحہ کی سخت سرد آب و ہوا ایک طاقتور معاشی محرک ہے۔ یہ ان سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے جو"شمالی چین"کے تجربے کے خواہاں ہیں اور سرد خطوں کے لیے تیار کردہ مخصوص گاڑیوں کی جانچ کی صنعت کو فروغ دے رہی ہے۔
برف اور برفانی معیشت چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو تیز رفتار دے رہی ہے اور ساتھ ہی عالمی سطح پر موسم سرما کے کھیلوں کی صنعت کو نئی شکل دے کر دنیا کے لیے مواقعوں کے دروازے کھول رہی ہے۔
جہاں عالمی سطح پر برف اور برفانی صنعت غیر مساوی رہی ہے، چینی مارکیٹ کا تیز عروج پوری صنعت میں اعتماد کو بڑھا رہا ہے۔
2025 میں، چین کی برف اور برفانی معیشت کا مجموعی حجم پہلی بار 1 ٹریلین یوآن (144.92 بلین ڈالرز) سے تجاوز کر گیا، جو گزشتہ دہائی کے دوران تقریباً چار گنا اضافہ کر گیا ہے۔
2025-2026 کے موسم سرما کے دوران،برفانی تفریحی سیاحتی دوروں کی تعداد 360 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے، جس سے 450 بلین یوآن کی آمدنی ہوگی۔
چین موسم سرما کی کھپت کے لیے دنیا کی سب سے امید افزا مارکیٹ بن گیا ہے اور تیز رفتار ترقی کو برقرار رکھنے والے چند خطوں میں سے ایک ہے۔

8 فروری 2026۔ شمال مغربی چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے شہر ووسو میں ایک برف کے پارک میں کھیلتے ہوئے بچے۔ (تصویر/لی رین شی)
چین اپنی برفانی معیشت کی حدود کو مسلسل وسعت دے کر عالمی صنعت کے لیے ایک پائیدار راستہ وضع کر رہا ہے۔
شمال مشرقی چین کے صوبے لیاؤننگ کے ہوان رین منچو خود اختیار کانٹی میں برفانی شراب کی پیداوار کو فروغ دینے کی مقامی کوششوں نے اس خطے کی خاص صنعت کو ایک قیمتی "جامنی سونے"میں تبدیل کر دیا ہے۔
جنوب مغربی چین کے صوبے گوئی جو کے شہر لیو پھان شوئی میں، بلندی پر اسکیئنگ کو دیہی ثقافتی سیاحت کے ساتھ ملا کر اس علاقے کو ایک منفرد "جنوبی برف اور برفانی مقام"میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
دریں اثنا، جنوب مغربی چین کے صوبے سیچوان کا شہر چھینگ دو نے اسکیئنگ اور گرم چشموں کا مشترکہ تجربہ متعارف کرایا ہے، جو ملک بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے۔
یہ مقامی ایجادات دنیا کے سامنے موسم سرما کی صنعتوں کو تکنیکی ترقی اور ثقافتی سیاحت کے ساتھ گہرائی سے مربوط کرنے کی وسیع صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
جیسا کہ امریکی آزاد جریدے "یوریشیا ریویو"نے نوٹ کیا ہے، "سرد معیشت" اب محض موسمی تجسس نہیں بلکہ یہ چینی معیشت کا ایک مستقل اور بڑھتا ہوا جز ہے جو تفریحی کھپت سے اکیسویں صدی میں ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ اور علاقائی ترقی کو آگے بڑھانے کا خاکہ فراہم کرتا ہے۔
چین کی ٹریلین یوآن برف اور برفانی معیشت کا عروج عالمی کاروباروں کے لیے مشترکہ مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔
شمالی چین کے اندرونی منگولیا کے خود اخیتار علاقے کے شہر یاکیشی میں جرمن ملٹی نیشنل کمپنی بوش نے اس علاقے کی سخت آب و ہوا سے فائدہ اٹھانے کے لئے، اپنا سب سے بڑا ایشیا پیسیفک موسم سرما کی گاڑیوں کی جانچ کا مرکز کھولا ہے۔

12 نومبر 2025۔ شمال مشرقی چین کے صوبے ہیلونگ جیانگ کے شہر موحہ میں سیاح ایک پارک میں تصویر کشی کرتے ہوئے۔ (تصویر: لیانگ جی چھیانگ)
برف بنانے کے نظام بنانے والی اطالوی کمپنیTechnoAlpin کا منصوبہ ہے کہ وہ چین میں اپنا چوتھا سب سے بڑا آلاتی مرکز قائم کرے، جو مقامی مارکیٹ کو استعمال کرتے ہوئے ارد گرد کے خطوں کو خدمات فراہم کرے گا۔
سکی علاقوں کے لیے روپ ویز اور مسافروں کی نقل و حمل کے نظام بنانے والی آسٹریا کی کمپنی ڈوپل مائر گروپ، بیجنگ کے ضلع ینچنگ میں قومی پہاڑی سکی مرکز میں نو تنابی راستوں کی تعمیر اور عمل میں حصہ لے چکا ہے۔
آلات سازی سے لے کر سیاحتی خدمات تک، چین کی متحرک سرمائی منڈی طویل مدتی ترقی کے خواہاں عالمی صنعت کاروں کے لیے ایک ترجیحی منزل بن رہی ہے۔ چین کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی برف اور برفانی معیشت اس بات کی واضح عکاسی کرتی ہے کہ چین اس نئے دور میں اپنی اعلیٰ معیار کی ترقی سے دنیا میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی معیشت کو نئے ترقیاتی محرکات کی اشد ضرورت ہے، چین اپنی وسیع مارکیٹ کی بے پناہ صلاحیت اور اختراع پر مبنی ترقی کی توانائی کی بنیاد پر مشترکہ تعاون کے لیے ایک مخلصانہ دعوت دے رہا ہے۔
آگے دیکھتے ہوئے، چین تمام ممالک کے ساتھ مل کر ایک بہتر مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے عالمی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرتا رہے گا۔



