27 مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)24 سے 27 مارچ تک چین کے صوبے ہائی نان کے شہر بوآؤ میں، بوآؤ فورم فار ایشیا 2026 کے سالانہ اجلاس کا انعقاد ہوا۔ اجلاس کے دوران پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے پیپلز ڈیلی کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بوآؤ فورم، ایشیا کے اندرونی تعاون نیز ایشیا اور باقی دنیا کے مابین تعلقات پر بات چیت کا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے، جو مختلف فریقوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے اور اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے قابل قدر مواقع فراہم کرتا ہے۔ مختلف ممالک کے نمائندے یہاں ترقیاتی نظریات کا تبادلہ کرتے ہیں اور پالیسی تجربات شیئر کرتے ہیں، جس سے علاقائی تعاون کو مزید فروغ ملتا ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چین، ایشیا کا سب سے اہم ملک ہے، اس کی پالیسی سمت اور ترقیاتی سوچ خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی نمایاں اثرات مرتب کرتی ہے۔ فورم کے فریم ورک کے تحت چین کا ترقیاتی تجربہ، خاص طور پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں حاصل شدہ کامیابیاں، شرکاء کی توجہ کا مرکز بنی ہیں اور دیگر ممالک کے لیے پالیسی سازی میں مفید رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تعاون کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ دونوں ممالک اب منصوبوں کی افادیت بڑھانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور ایسے اقدامات کو فروغ دیا جا رہا ہے جن کے نتائج جلد حاصل ہوں اور وصولی کا دورانیہ نسبتاً کم ہو، تاکہ تعاون کے معیار اور سطح کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم مستقبل میں اس تعاون کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔



