مقامی وقت کے مطابق 27 مارچ کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کا ایران میں طویل قیام کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ موجودہ مسائل سے نمٹنے کے بعد جلد ہی وہاں سے نکل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے اپنے تمام فوجی مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔تاہم، ابھی فوجی آپریشن اس لئے ختم نہیں ہوا کیونکہ صدرڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران امریکہ کو دھمکی دینے کی صلاحیت سے مکمل طور پر محروم ہو جائے۔ امریکہ میں تیل کی قیمتوں میں موجودہ اضافے کے بارے میں وینس نے کہا کہ یہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعہ کے حوالے سے مارکیٹ کا ایک بہت ہی قلیل مدتی ردعمل ہے اور امریکہ کے ایران سے نکلنے کے بعد تیل کی قیمتیں واپس گر جائیں گی۔
ادھر ایرانی ذرائع کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے 29 تاریخ کو آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی بندرگاہ پر حملہ کیا، جس میں پانچ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ اسرائیلی دفاعی افواج نے اسی روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے 28 تاریخ کو تہران کے مرکزی علاقے میں بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر ایک فضائی حملہ کیا۔ اس کارروائی میں اسرائیلی فوج نے ہتھیاروں کے ذخیرے اور پیداواری مقامات کو نشانہ بنایا اور ایران کے ہتھیاروں کی تیاری کے بنیادی ڈھانچے کو مزید کمزور کر دیا۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی فوج نے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور نگرانی کی چوکیوں کو بھی نشانہ بنایا۔



