مقامی وقت کے مطابق 30 تاریخ کو، ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس لینے کے منصوبے کو منظور کر لیا۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 30 تاریخ کو کہا کہ ایران کو کبھی بھی آبنائے ہرمز پر دائمی کنٹرول کرنے اور ٹیکس لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرتا ہے، تو اسے 'شدید نتائج' کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مقامی وقت کے مطابق 30 تاریخ کو، ایران کے محکمہ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے اب تک امریکہ کے ساتھ براہ راست کوئی مذاکرات نہیں کیے او ر ایران کو کچھ ثالثوں کے ذریعے امریکہ کی طرف سے مذاکرات کی خواہش کے بارے میں معلومات موصول ہوئی ہیں۔
اسی دن، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران نے غیر اعلانیہ ملاقاتوں میں کچھ امریکی تجاویز سے اتفاق کر لیا ہے اور کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ 6 اپریل سے پہلے معاہدہ طے پا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور پیش رفت خوش آئند ہے۔
مقامی وقت کے مطابق 30 تاریخ کو، اسرائیلی فوج اور دیگر اسرائیلی رہنماؤں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے ایک ماہ بعد، اسرائیلی فوج نے تقریباً تمام اہداف جو تنازع کے آغاز میں اس نے طے کیے تھے، مکمل کر لیے ہیں اور اسرائیل کے ایران میں فوجی اہداف "اختتامی مرحلے" میں داخل ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی سیاسی قیادت نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے "معاشی" اہداف پر حملہ کرے۔
مختلف فریقوں کی جانب سے ملنے والی حالیہ اطلاعات کے مطابق، ایک ماہ میں امریکی فوج نے 10ہزار سے زیادہ ایرانی فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے 3 ہزار سے زیادہ ایرانی متعلقہ اہداف پر حملہ کیا ہے۔دوسری جانب ایران کی جانب سے "وعدہ صادق-4" میں 80 سے زائد کارروائیاں کی گئی ہیں ۔



