کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے 2 اپریل کو یورپی یونین کی خارجہ اور سیکورٹی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
کالاس نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے بارے میں اپنا موقف پیش کیا، اور صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے چین کی جانب سے سرگرم سفارتی کوششوں اور چین اور پاکستان کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام بحال کرنے کے لیےپانچ نکاتی اعلامیے کی تعریف کی۔انہوں نے کہا یورپی یونین اس جنگ میں شامل ہوئی ، لیکن اس سے متاثر ہوئی ہے ، اور امید ہے کہ کشیدگی کو جلد از جلد کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نےانسانی امدادی کارروائیوں اور شہریوں اور غیر فوجی اہداف کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کی ہے، اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
وانگ ای نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی صورت حال عدم استحکام کا شکار ہے، اور چین اور یورپی یونین کے درمیان روابط کو مضبوط کرنا اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر مبنی بین الاقوامی نظام کی حفاظت کرنا فریقین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وانگ ای نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے بارے میں چین کے بنیادی موقف کی وضاحت کی، اور کہا کہ چین اور پاکستان کے جاری کردہ پانچ نکاتی اعلامیے میں وسیع بین الاقوامی اتفاق رائے کی عکاسی کی گئی ہے، جس کا مرکز دشمنی کی کارروائیوں کو روکنا، جلد از جلد بات چیت شروع کرنا، غیر فوجی اہداف کا تحفظ ، آبی گزرگاہوں کی حفاظت، اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے وقار کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا جنگ بندی بین الاقوامی برادری کی مشترکہ خواہش ہے ، اور یہ آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کا بنیادی طریقہ بھی ہے۔ تمام فریقوں کو اس کے لیے مزید اتفاق رائے اور ضروری حالات پیدا کرنے چاہئیں۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین یورپی یونین کے ساتھ روابط اور تعاون جاری رکھنے، جنگ کو جلد از جلد روکنے اور علاقائی امن کی بحالی کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں فریقوں نے چین-یورپی یونین تعلقات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔