
10 اپریل کو بیجنگ میں ,کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری شی جن پھنگ نے گو من دانگ پارٹی کی چیئرپرسن جنگ لی وین کی قیادت میں آنے والے وفد سےملاقات کی۔
شی جن پھنگ نے جنگ لی وین اور ان کے وفد کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سی پی سی اور گو من دانگ پارٹی کے رہنماؤں کی دس سال بعد ہونے والی ملاقات،دونوں جماعتوں اور دو نوں کناروں کے تعلقات کی ترقی کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
شی جن پھنگ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی حالات یا آبنائے تائیوان کی صورتحال میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کیوں نہ آئے، چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کا رجحان تبدیل نہیں ہوگا اور آبنائے کے دونوں کناروں کے عوام کی قربت اور باہمی روابط کے فروغ کا عمل بھی جاری رہے گا۔ دونوں کناروں کے عوام آبنائے تائیوان میں امن و استحکام، تعلقات میں بہتری اور اپنی زندگیوں میں خوشحالی کے خواہاں ہیں۔ یہ سی پی سی اور گو من دانگ پارٹی دونوں کی ذمہ داری بھی ہے اور تعاون کا محرک بھی۔ انہوں نے کہا کہ "1992 کے اتفاقِ رائے" پر قائم رہتے ہوئے اور "تائیوان کی علیحدگی" کی مخالفت کی مشترکہ سیاسی بنیاد پر ہم تائیوان کی تمام جماعتوں، گروہوں اور سماجی حلقوں کے ساتھ مل کر روابط اور مکالمے کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں، تاکہ امن، عوامی فلاح اور قومی نشاۃ ثانیہ کو فروغ دیا جا سکے اور دونوں اطراف کے تعلقات کا مستقبل چینی عوام کے اپنے ہاتھ میں رہے۔
شی جن پھنگ نے آبنائے کے دونوں کناروں کے تعلقات کی ترقی کے لیے چار نکات بھی پیش کیے:
پہلا، درست شناخت کے ذریعے قلبی تعلق کو مضبوط بنایا جائے۔دوسرا، پرامن ترقی کے ذریعے مشترکہ گھر کا تحفظ کیا جائے۔تیسرا، تبادلوں اور انضمام کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کو فروغ دیا جائے اور چوتھا، اتحاد و مشترکہ جدوجہد کے ذریعے چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کو یقینی بنایا جائے۔
جنگ لی وین نے کہا کہ دونوں کناروں کے عوام ایک ہی قوم سے تعلق رکھتے ہیں، سب چینی ثقافت سے وابستہ ہیں اور ایک خاندان کی مانند ہیں۔ دونوں جماعتوں کو "1992 کے اتفاقِ رائے" اور "تائیوان کی علیحدگی" کی مخالفت کی مشترکہ بنیاد پر قائم رہتے ہوئے سیاسی اعتماد کو مضبوط ، مکالمے کے پلیٹ فارم کو مؤثر اور چینی تاریخ اور ثقافت کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے، نیز عوامی، معاشی، ثقافتی اور دیگر شعبوں میں تعاون۔