• صفحہ اول>>سیاست

    چینی صدر شی جن پھنگ کی ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد سے ملاقات

    (CRI)2026-04-15

    14 اپریل کی صبح ، چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں، متحدہ عرب امارات کی ریاست ،ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد سے ملاقات کی۔

    شی جن پھنگ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ،چین کا جامع سٹریٹجک شراکت دار ہے اور چین اس کے ساتھ تعلقات کی ترقی کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ دونوں فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے ان کے تعلقات مثبت اور مستحکم ہیں، سیاسی اعتماد اورعملی تعاون میں مسلسل اضافہ ہوا ہے نیز ثقافتی تبادلے متنوع اور شاندار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو مضبوط اور بلند کرنے پر دونوں فریقوں کا مکمل اتفاق رائے ہے اور یہ جو دونوں ممالک کے عوام کی توقعات کے عین مطابق بھی ہے۔صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین، متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر کام کرنے، نیز دونوں ممالک کے درمیان زیادہ مضبوط، پائیدار اور متحرک جامع اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مرکزی مفادات اور دلچسپی کے حامل اہم امور میں تعاون جاری رکھنا چاہیے، اعلیٰ سطحی روابط برقرار رکھنے چاہئیں اور سٹریٹجک اعتماد کو مضبوط کرنا چاہیے۔

    چین کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کو چاہیے کہ ترقیاتی حکمت عملیوں میں ہم آہنگی کو بڑھائیں،توانائی، سرمایہ کاری، تجارت، ٹیکنالوجی وغیرہ جیسے شعبوں میں صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں، تعلیم ،شہری ہوا بازی اور سیاحت میں تعاون کو گہراکریں نیز افرادی و ثقافتی تبادلوں اور عوامی رائےکی بنیاد کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تعاون میں اقوام متحدہ اور برکس جیسے کثیرالجہت پلیٹ فارمز پر ہم آہنگی اور تعاون میں اضافہ کرنا چاہیئے ،باہمی تعلقات میں استحکام کے ذریعے غیر یقینی علاقائی و بین الاقوامی صورتحال کا مقابلہ کرنا چاہیئے اور مل کر انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل کو فروغ دینا چاہیے۔

    دونوں فریقوں نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کی موجودہ صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ شی جن پھنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے تحفظ اور فروغ کے لیے چار نکات پیش کیے۔

    پہلا، پرامن بقائے باہمی کے اصول پر عمل کرنا۔ مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک وہ پڑوسی ہیں جنہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا اس لیے ان ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کی حمایت کی جانی چاہیئے،مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی پائیدار سکیورٹی سٹرکچر کی تشکیل کو فروغ دیا جانا چاہیے اور پرامن بقائے باہمی کی بنیاد کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ دوسرا، قومی خودمختاری کے اصول پر عمل کرنا ، جو ہر ملک، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے وجود و استحکام کی بنیاد ہے اور جس کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا حقیقی معنوں میں احترام کیا جانا چاہیے نیز تمام ممالک کے لوگوں، تنصیبات اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ تیسرا، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے اصول پر عمل پیرا ہونا۔ بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے وقار کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپس نہیں جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی مرکزیت پر مبنی نظام، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں پر مبنی بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کو مضبوطی سے برقرار رکھنا چاہیے۔ چوتھا، ترقی اور سلامتی کی ہم آہنگی پر زور دینا۔ سلامتی ترقی کی بنیاد ہے اور ترقی سلامتی کی ضمانت ہے۔ تمام فریقوں کو مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہوئے مثبت توانائی فراہم کرنی چاہیے۔

    صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے ساتھ چینی طرز کی جدیدیت کے مواقع بانٹنے اور علاقائی ترقی اور سلامتی کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔

    زبان