• صفحہ اول>>سیاست

    چینی صدر شی جن پھنگ کی ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز سے ملاقات

    (CRI)2026-04-15

    14 اپریل کو بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چینی صدر شی جن پھنگ نے ، چین کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز سے ملاقات کی۔

    شی جن پھنگ نے کہا کہ اگرچہ بین الاقوامی صورتحال پیچیدہ اور اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، تاہم چین اور سپین کے تعلقات طور پر ترقی کر رہے ہیں اور سٹریٹجک استحکام کے حامل چین-سپین تعلقات تشکیل پائے ہیں جس کے باعث مشترکہ مفادات کی بنیاد پر درست فیصلے کیے گئے ہیں۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ حقائق نے ثابت کیا ہے کہ تعاون کو گہرا کرنا دونوں ممالک کے عوام کے مفادات کے مطابق ہے اور وقت کے ترقیاتی رجحان پر پورا اترتا ہے، جس سے ایک دوسرے کی آزادانہ راہ پر چلنے کی طاقت اور حوصلہ میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کو ہمیشہ اپنی خارجہ حکمت عملی میں ،چین-ہسپانیہ تعلقات کو اہم مقام دینا چاہیئے اور ایک دوسرے کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت کرنی چاہیئے۔ چینی صدر نے کہا کہ دونوں فریقوں کو مواقعوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ طور پر اختراعی ترقی کو فروغ دینا چاہیئے، تجارت، نئی توانائی اور انٹیلیجنٹ اکانومی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہیئے نیز ثقافت ، تعلیم ، سائنس ،تحقیق اور کھیلوں کے تبادلوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے، تاکہ دونوں ممالک کے جامع سٹریٹجک شراکت داری پر مبنی تعلقات میں مزید نتائج حاصل ہوں اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے زیادہ بہتری لائی جا سکے۔

    شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ آج، دنیا انتشار کا شکار ہے اور انصاف اور طاقت کے درمیان جدوجہد کر رہی ہے ۔ کسی بھی ملک کا بین الاقوامی قوانین اور عالمی نظام کے حوالے سے اپنایا گیا رویہ اس کی اقدار اور ذمہ داری کے تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ چین اور سپین دونوں اصول پسند اور اخلاقی اقدار کے پابند ممالک ہیں ،انہیں باہمی رابطوں کو فروغ دینے ، اعتماد کو مضبوط کرنے اور قریبی تعاون کو برقرار رکھنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے تاکہ دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف لوٹنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر حقیقی کثیرالجہتی کا تحفظ کرنا چاہیے، اقوام متحدہ کی مرکزیت پر مبنی بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی بین الاقوامی نظم و نسق کو برقرار رکھنا چاہیے، مساوی اور منظم کثیر قطبی دنیا اور اقتصادی عالمگیریت کو فروغ دینا چاہیے اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل کو فروغ دینا چاہیے ۔

    زبان