• صفحہ اول>>سیاست

    شی جن پھنگ کی سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان السعود کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو

    (CRI)2026-04-21

    21 اپریل (پیپلز ڈیلی آن لائن) 20اپریل کو چینی صدر شی جن پھنگ نے سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان السعود کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

    شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ اس سال دونوں ممالک کے درمیان، جامع سٹریٹجک شراکت داری کے قیام کی 10ویں سالگرہ ہے اور چین، سعودی عرب کے ساتھ مل کر اس موقعےسے فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی سٹریٹجک اعتماد کو گہرا کرنے، عملی تعاون کو مضبوط بنانے نیز چین اور عرب ممالک کے مابین تعلقات کی ترقی میں مثالی کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

    مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کی صورتحال کے حوالے سے شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین فوری اور مکمل جنگ بندی اور جنگ کے مکمل خاتمے کا حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین امن کی بحالی کے لیے سازگار ، تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے موقف پر ثابت قدمی سے قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو معمول کی آمدورفت کے لیے کھلا رہنا چاہیے، یہ خطے کے ممالک اور عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ چین خوشگوار ہمسائیگی، ترقی، سلامتی اور تعاون پر مبنی برادری کی تشکیل میں خطے کے ممالک کی حمایت کرتا ہے تاکہ وہ خود ، اپنے مستقبل اور تقدیر کا فیصلہ کر سکیں اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کو فروغ دیا جائے۔

    سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان السعود نے کہا کہ سعودی عرب- چین تعلقات ، سٹریٹجک اہمیت کے حامل ہیں اور چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا سعودی عرب کے لیے نہایت اہم ہے۔ سعودی عرب، تنازعات اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور چاہتا ہے کہ صورت حال مزید نہ بگڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بڑی، ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر چین نے ہمیشہ منصفانہ موقف کو برقرار رکھا ہے۔ سعودی عرب، جنگ کے دوبارہ آغاز کوروکنے، آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کے لیے مشترکہ طور پر ایک راستہ تلاش کرنے کی خاطر ، چین کے ساتھ رابطے اور تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔

    زبان