22 اپریل کو چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے تائیوان انتظامیہ کے اس بیان پر، جس میں لائی چھنگ ڈہ کے مبینہ طور پر سوازی لینڈ کے دورے کو "عارضی طور پر مؤخر" کرنے کا دعویٰ کیا گیا، ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ افریقہ کے 54 ممالک میں سے سوازی لینڈ کے سوا باقی 53 ممالک چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں اور بارہا اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ وہ مضبوطی سے ایک چین کے اصول پر کاربند ہیں۔ افریقی ممالک اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے، تائیوان چین کی سرزمین کا ایک لازم و ملزوم حصہ ہے، اور عوامی جمہوریہ چین کی حکومت پورے چین کی نمائندگی کرنے والی واحد قانونی حکومت ہے۔نیز وہ قومی وحدت کے حصول کے لیے چینی حکومت کی تمام کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ نام نہاد "جمہوریہ چین کے صدر" کا اب دنیا میں کوئی وجود نہیں ہے اور کوئی بھی شخص اگر اس حیثیت کو اختیار کر کے دھوکہ دہی کی کوشش کرتا ہے تو وہ صرف خود کو رسوا کرے گا۔چین کی حتمی وحدت کے تاریخی رجحان کو کوئی نہیں روک سکتا۔ "تائیوان کی علیحدگی پسند" قوتوں کی سازشیں محض بے سود ہیں اور بالآخر ناکامی و تباہی سے دوچار ہوں گی۔