25 اپریل کو ، یورپی یونین کی جانب سے روس کے خلاف پابندیوں کے20ویں دور میں چینی کمپنیوں کو شامل کیے جانے پر چین کی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چین اس اقدام پر سخت عدم اطمینان اور بھرپور مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چین متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ وہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، اور یورپی یونین کی جانب سے چینی اداروں اور افراد کے خلاف "بے جا دائرہ اختیار" کے اطلاق کو بھی مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کا یہ اقدام چین اور یورپ کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کے منافی ہے اور اس سے دوطرفہ اعتماد اور مجموعی تعلقات کو شدید نقصان پہنچے گا۔
ترجمان نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر چینی کمپنیوں اور افراد کو پابندیوں کی فہرست سے خارج کرے، دونوں جانب کے رہنماؤں کے اتفاقِ رائے کا احترام کرے اور بات چیت و مشاورت کے ذریعے اختلافات کو حل کرے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ چین اپنے کاروباری اداروں کے جائز اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا، اور اس کے تمام نتائج کی ذمہ داری یورپی فریق پر عائد ہوگی۔