30 اپریل کو ، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ ای نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔وانگ ای نے کہا کہ سربراہانِ مملکت کی سفارت کاری چین۔امریکہ تعلقات کی بنیاد ہے۔ صدر شی جن پھنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسٹریٹجک رہنمائی میں دونوں ممالک کے تعلقات مجموعی طور پر مستحکم رہے ہیں، جو دونوں عوام کے بنیادی مفادات اور عالمی برادری کی توقعات کے مطابق ہیں۔دونوں فریقوں کو اس مشکل سے حاصل کردہ مستحکم صورتحال کو برقرار رکھنا چاہیے،اہم اعلیٰ سطح رابطوں کی تیاری کو آگے بڑھانا چاہیے، تعاون کے دائرہ کار کو وسیع اور اختلافات کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنا چاہیے ۔
وانگ ای نے زور دے کر کہا کہ تائیوان کا معاملہ چین کے بنیادی مفادات سے متعلق ہے اور چین۔امریکہ تعلقات میں سب سے بڑا حساس نکتہ ہے۔ امریکی فریق کو اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے درست فیصلے کرنے چاہئیں، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے نئی راہیں ہموار ہوں اور عالمی امن میں کردار ادا کیا جا سکے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات دنیا کے اہم ترین دوطرفہ تعلقات ہیں اور سربراہان کی سطح کی سفارت کاری ان تعلقات کا مرکز ہے۔ دونوں ممالک کو رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھنی چاہیے، باہمی احترام کے ساتھ اختلافات کو سنبھالنا چاہیے اور اعلیٰ سطح رابطوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیے تاکہ تعلقات میں اسٹریٹجک استحکام حاصل ہو سکے۔
دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سمیت دیگر علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔