6 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)۔حال ہی میں، روس کو ڈرون پرزہ جات اور دیگر عسکری سامان فراہم کرنے کو جواز بناتے ہوئے برطانوی حکومت نے متعدد ممالک کے کچھ قومی اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں دو چینی ادارے بھی شامل ہیں۔
5 مئی کو برطانیہ میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین، برطانیہ کی جانب سے کسی بین الاقوامی قانونی جواز کے بغیر عائد کردہ یک طرفہ پابندیوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ یہ پابندیاں چینی کمپنیز کے حقوق و مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ چین نے یوکرین بحران پر ہمیشہ ایک معروضی اور غیر جانبدارانہ موقف برقرار رکھتے ہوئے امن مذاکرات کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے اور قوانین و ضوابط کے مطابق دوہرے استعمال کی اشیاء کی برآمد پر سختی سے کنٹرول بھی کیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ چینی اور روسی کاروباری اداروں کے مابین،معمول کے تبادلے اور تعاون میں مداخلت یا ان پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ ترجمان نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے غلطی کو درست کرے اور متعلقہ چینی اداروں کے خلاف پابندیاں اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ چین اپنے کاروباری اداروں کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گا۔