رپورٹس کے مطابق، 6 مئی کو امریکی اور فلپائنی فوجی مشق کے دوران جاپان کے زمین سے جہاز شکن میزائل "ٹائپ 88 "داغے گئے۔ جنگ کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ جاپان نے بیرونِ ملک جارحانہ نوعیت کے میزائل داغے ہوں ۔اس پر چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِین جئین نے 6 تاریخ کو یومیہ پریس بریفنگ میں کہا کہ یہ عمل ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ جاپان کی دائیں بازو کی قوتیں دوبارہ عسکریت پسندی کو بڑھا رہی ہیں، ملکی و بین الاقوامی قوانین کی پابندیوں کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہیں ،اور بعض پالیسیاں اور اقدامات " سیلف ڈیفنس " کی حدود سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔
مقامی وقت کے مطابق 4 تاریخ کو، نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں منعقدہ "جوہری ہتھیار وں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے" کی گیارہویں جائزہ کانفرنس میں، چینی وفد نے جاپان کی جانب سے حالیہ برسوں میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کے حوالے سے منفی رویوں کی نشاندہی کی تھی اور زور دے کر کہا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو اس پر انتہائی چوکنا رہنا چاہیے۔