اطلاعات کے مطابق پیراگوئے کے صدر نے 7 سے 10 مئی تک تائیوان کا دورہ کیا اورمتعدد "تعاون کے معاہدوں" پر دستخط کیے۔ 12 مئی کو چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چین پیراگوئے کے اس طرزعمل کی سختی سے مخالفت اور شدید مذمت کرتا ہے۔ دنیا میں صرف ایک چین ہے اور تائیوان چین کی سرزمین کا اٹوٹ حصہ ہے۔ ایک چین کا اصول بین الاقوامی تعلقات کا ایک بنیادی اصول اور بین الاقوامی برادری کا عمومی اتفاق رائے ہے۔ پیراگوئے کے اندرونی سروے سے پتہ چلتا ہے کہ پیراگوئے کے تقریباً 90 فیصد لوگ چین اور پیراگوئے کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی حمایت کرتے ہیں، جو پوری طرح سے ظاہر کرتا ہے کہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا پیراگوئے کے عوام کے بنیادی اور طویل مدتی مفادات میں ہے۔ پیراگوئے کے سیاستدان نے کھلے عام تائیوان کا دورہ کرکے لائی چھنگ ڈہ جیسی "تائیوان کی علیحدگی پسند" شخصیات کی حمایت کی۔ کیا وہ پیراگوئے کے عوام کے مفاد میں کام کر رہے ہیں یا ان کا مقصد کچھ اور ہے، یہ بات ہر باشعور شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ چین پیراگوئے کی حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے جلد از جلد ایک چین کے اصول کو تسلیم کرنے کے لیے درست سیاسی فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایک چین کے اصول سے انحراف کرنے والا ملک خود کو عالمی برادری سے الگ تھلگ کر لیتا ہے۔