3جون کو ریاستی کونسل کے امور تائیوان کے دفتر کی یومیہ پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا کہ حال ہی میں این ویڈیا کے بانی ہوانگ رین شون نے کہا ہے کہ تائیوان کو مزید بجلی کی ضرورت ہے۔ اس بیان کے بعد تائیوان میں بعض حلقوں نے بجلی کی فراہمی کی صلاحیت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ ڈی پی پی انتطامیہ مسلسل اس مسئلے کا سامنا کرنے سے گریز کر رہی ہے جو تائیوان کی صنعتی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے ؟
ترجمان جو فنگ لئین نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈی پی پی حکام کی تمام تر توجہ "تائیوان کی علیحدگی " پر مرکوز ہے، اس لیے نہ تو ان میں تائیوان کو درپیش معاشی و سماجی ترقی کے مسائل حل کرنے کی خواہش ہے اور نہ ہی صلاحیت۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قلت تائیوان کی معاشی اور سماجی ترقی کی ایک نمایاں کمزوری بن چکی ہے، اور یہ حقیقت سب کے سامنے ہے۔ جو فنگ لئین نے مزید کہا کہ ڈی پی پی حکام نے توانائی کے مسئلے کو سیاسی رنگ دے دیا ہے اور اس مسئلے کا عملی حل تلاش کرنے کے بجائے اسے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈی پی پی انتظامیہ پارٹی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے اور ان کی ترجیح تائیوان کے عوام کی فلاح و بہبود اور مستقبل کی ترقی نہیں ۔