چین میں یورپی یونین کے چیمبر آف کامرس کی ایک حالیہ سروے رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 68 فیصد یورپی کمپنیوں نے چین میں اپنے کام کو برقرار رکھنے یا مزید وسعت دینے کا انتخاب کیا ہے، جبکہ تقریباً ایک تہائی کمپنیاں چین میں اپنی کاروباری سرگرمیوں کو مزید گہرا کریں گی ۔ ایسا لگتا ہے کہ "ڈی رسکنگ" یورپی کمپنیوں کے لیے ایک عملی انتخاب نہیں ہے۔
اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے 4 جون کو یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ زیادہ سے زیادہ یورپی کمپنیوں کی جانب سے چین میں اپنی موجودگی کو مزید گہرا کرنے اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کا انتخاب، بذات خود نام نہاد "ڈی رسکنگ" کے بیانیے کا سب سے طاقتور جواب ہے۔ چین۔یورپی یونین اقتصادی و تجارتی تعاون مشترکہ مفادات پر مبنی ہے۔ برتریوں کی تکمیل کوئی خطرہ نہیں جبکہ مفادات کا انضمام کوئی دھمکی نہیں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یورپی یونین چین-یورپی یونین کے اقتصادی و تجارتی تعلقات کو معروضی اور منطقی طور پر دیکھے گی، اور مسائل کی فہرست کو کم کرنے اور باہمی فائدے اور جیت کے نتائج حاصل کرنے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔