5 جون کو چائنا سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اسٹڈیز اور نیشنل ہیومن رائٹس ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ بیس نے مشترکہ طور پر "انسانی حقوق کے قومی ایکشن پلان (2021-2025) کے نفاذ کی جائزہ رپورٹ" جاری کی۔ رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے قومی ایکشن پلان (2021-2025) پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا گیا ہے، تمام 181 اہداف پورے کئے گئے ہیں، جن میں 44 لازمی اہداف میں سے 20 مقررہ وقت سے پہلے یا طے شدہ ہدف سے بڑھ کر مکمل کیے گئے ۔ چین میں انسانی حقوق کے تحفظ کے معیار کو تمام پہلوؤں سے بہتربنایا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے ترقی کے ذریعے انسانی حقوق کو فروغ دے کر تاریخی طور پر مطلق غربت کے مسئلے کو حل کیا۔ چین میں عالمی وبا کے شدید اثرات پر مؤثر طریقے سے قابو پایا گیا اور دنیا میں صحت عامہ، تعلیم اور سماجی تحفظ کا سب سے بڑا نظام قائم کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ چین ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت کو فروغ دیتے ہوئے انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنا رہا ہے۔ ماحولیاتی ضابطہ قانون کی تالیف کی گئی، ماحولیاتی معیار میں مسلسل بہتری آئی اور ماحولیاتی حقوق کو موثر طور پر یقینی بنایا گیا ہے۔ چین نے ذمہ داری کے ساتھ انسانی حقوق کی اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے امور میں تعمیری طور پر حصہ لیا اور انسانی حقوق کے عالمی نصب العین کی ترقی کے لیے چینی خدمات اور چینی حل فراہم کیے ہیں۔