اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سون لے نے آٹھ تاریخ کو سلامتی کونسل میں یوکرین کے مسئلے کے جائزے کے دوران کہا کہ یوکرین بحران میں شامل تضادات پیچیدہ ہیں، امن معاہدے تک پہنچنا کسی بھی طرح سے آسان نہیں ہے اور سیاسی حل کا حصول ایک طویل اور مشکل کام ہے جس کے لیے تمام فریقین کی جانب سے کوششوں کی ضرورت ہے۔
سون لے نے موجودہ صورتحال کی روشنی میں چار توقعات پیش کیں:
اول، فریقین عوامی مفاد کو مقدم رکھیں، زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تنازع کو مزید بڑھائیں یا صورتحال کو کشیدگی کی طرف لے جائیں، تاکہ بحران قابو سے باہر نہ ہو۔
دوم، متعلقہ فریقین صبر، خلوص اور لچک کا مظاہرہ کریں، جلد از جلد مذاکراتی عمل کی بحالی کو ممکن بنائیں اور ایک جامع، پائیدار اور قابلِ عمل امن معاہدے کے حصول کی کوشش کریں۔
سوم، علاقائی ممالک اور عالمی برادری جنگ بندی اور مذاکرات کے حق میں زیادہ متوازن اور مثبت آوازیں بلند کریں، اور اعتماد سازی، ثالثی اور سفارتی کوششوں کو مزید فروغ دیں۔
چہارم، متعلقہ فریقین اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے بحران کی بنیادی وجوہات کے حل پر توجہ دیں اور ایک متوازن، مؤثر اور پائیدار علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل کے لیے کوشش کریں۔
سون لے نے زور دیا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس بحران کے سیاسی حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔