17 جون کو، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں چینی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے عالمی حکمرانی کے بارے میں وائٹ پیپرکے اجراء پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ کا پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو ایک زیادہ منصفانہ اور معقول گلوبل گورننس سسٹم کی تعمیر کی وکالت کرتا ہے، جسے تیزی سے تقریباً 160 سے زائد ممالک اور عالمی تنظیموں کی پزیرائی ملی ہے اور ساٹھ سے زائد ممالک نے "گلوبل گورننس کے دوستوں کے گروپ " میں شمولیت اختیار کی ہے۔
امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے متعدد چینی کمپنیوں کو اپنی برآمدی کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے فیصلے کو عارضی طور پر معطل کرنے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ چین نے امریکہ کی جانب سے قومی سلامتی کے تصور کو عام کرنے کی اور اینٹٹی لسٹ سمیت برآمدی کنٹرول کے آلے کا بےجا استعمال کرکے چینی کمپنیوں پردباؤ ڈالنے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو تجارتی، اقتصادی اور تکنیکی مسائل کو سیاسی رنگ دینے، آلہ کار بنانے اور ہتھیار بنانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔