
چینی ساختہ ایئر کنڈیشنر کی خریداری کے بارے میں آسٹریا کے ایک صارف کی سوشل میڈیا پوسٹ (تصویر بذریعہ انٹرنیٹ)
7جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)رواں سال ، گرمی کی شدید لہر نے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، کئی ممالک میں درجہ حرارت نے کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ فرانس میں 1947 کے بعد سے اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ برطانیہ نے شدید گرمی کے لیے اپنا پہلا ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے صرف ایک ہفتے میں گرمی سے 1,300 سے زائد اموات کی تصدیق کی ہے۔
ٹھنڈک فراہم کرنے والے آلات اب آسائش نہیں ضروریات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ جیسے جیسے طلب میں اضافہ ہوا ہے ، چینی پنکھے اور پورٹیبل ایئر کنڈیشننگ یونٹس یورپی لوگوں کا پسندیدہ انتخاب بن گئے ہیں۔ بیلجیم میں، کچھ دکانوں میں تو چینی ساختہ کولنگ اپلائنسز تقریباً ختم ہو چکی ہیں، جب کہ کئی بڑے آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی مصنوعات "آوٹ آف سٹاک" آ رہی ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، دیگر یورپی ممالک میں بھی ایسی ہی صورت حال دیکھنے میں آ رہی ہے۔
فروخت میں یہ اضافہ ، صارفین کا حقیقی رد عمل ہے جو اس بنیادی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ : چین-یورپ اقتصادی و تجارتی تعاون، باہمی فوائد فراہم کرتا ہے اور یورپ کےصنعتی چیلنجز کی جڑیں، چین میں نہیں ہیں۔
حالیہ برسوں میں، کچھ یورپی مبصرین نے براعظم یورپ کی عدم مسابقت کو بیرونی مقابلے سے منسوب کیا ہے۔ یورپی یونین نے تحفظ پسندی پر مبنی مختلف صنعتی پالیسیز کا ایک سلسلہ شروع کیا ، جن کا مقصد تجارتی رکاوٹوں کے ذریعے مقامی سپلائی چینز کو مضبوط کرناہے۔ تاہم گرمی کی موجودہ لہر سے سامنے آنے والا " کنزیومر بوم" اس بیانیے کو چیلنج کرتا نظر آتا ہے۔
یورپ میں کولنگ اپلائنسز کی ناکافی فراہمی، بنیادی طور پر قدرے فرسودہ مقامی صنعتی ڈھانچے اور مصنوعات کی سست رفتار ترقی کی وجہ سے ہے، جس کے باعث مقامی آلات تعمیراتی منظرناموں اور لوگوں کی روزمرہ کی ضروریات کے لیے غیر موزوں یا ناکافی ہیں۔ جب مقامی صنعت کار مارکیٹ کی طلب کو پورا نہیں کرپائے ، تو صارفین کے لیے ان کی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کی گئی چینی مصنوعات پسندیدہ متبادل بن گئی ہیں۔

چینی کمپنی مے دی ( Midea) کا پورٹا سپلٹ پورٹیبل ایئر کنڈیشنر، خاص طور پر پرانی یورپی عمارات کی ساخت اور ڈھانچے کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔( تصویر بشکریہ مے دی)
چینی کولنگ اپلائنسز کی یورپ میں مقبولیت کی وجہ ان کی مارکیٹ کی گہری سمجھ بوجھ اور سمارٹ مینوفیکچرنگ کی مضبوط صلاحیت ہے۔یورپ میں بڑی تعداد میں پرانی عمارات موجود ہیں جن کے ڈھانچے کو بدلنے یا جدید بنانے میں مشکلات درپیش ہیں۔ ایسی عمارات میں عام ایئر کنڈیشنرز کی تنصیب مشکل ہوتی ہے، جبکہ پورٹیبل یونٹس شور بھی کرتے ہیں اور توانائی کے حوالے سے بھی غیر موثر ہیں۔ ان کے مقابلے میں چین نے ایسے سپلٹ پورٹیبل ایئر کنڈیشنرز متعارف کروائے ہیں جو ان تمام مسائل کا حل پیش کرتے ہیں نہ شور نہ توانائی کا اضافی خرچ اور نصب کرنے کے لیے بغیر کسی تبدیلی کے موجودہ عمارات میں آرام دہ ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں۔
ٹھنڈک فراہم کرنے والی ایک مشین،دراصل عالمی صنعتی سلسلے کی گہرائی میں جڑی ہوئی کڑیوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے ۔ تحقیق اور پیداوار سے لے کر فائنل اسمبلی اور سرحد پار تقسیم تک، چینی مصنوعات کی بین الاقوامی کامیابی، کئی ممالک کی صنعتی قوتوں کو یکجا کرتی ہے اور عالمی کامیابیوں نیز محنت کی بین الاقوامی تقسیم کی عکاسی کرتی ہے۔

صوبہ آنہوئی کے شہر ما آن شان میں گھریلو آلات بنانے والی چینی کمپنی AUX کی ایئر کنڈیشنر بنانے والی فیکٹری میں آوٹ ڈور یونٹس کی پیکنگ کی جا رہی ہے۔ (وانگ وین شینگ)
چین اور یورپ کے درمیان اقتصادی تعاون کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔دونوں ،اعلیٰ معیار کی حامل پیداوار، نئی توانائی، گھریلو آلات اور ڈیجیٹل معیشت جیسے شعبوں میں مختلف صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ مارکیٹ کے اصولوں کے تحت قائم ہونے والا یہ تعاون ، انفرادی شعبوں میں آنے والی پالیسی کی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہو سکتا۔ مارکیٹ سب سے بہتر منصف ہے اور صارفین کے فیصلے سرکاری پالیسیز اور تحفظ پسندانہ بیانات سے زیادہ اہم ہیں۔ تجارتی رکاوٹیں اور صنعتی سلسلوں کو توڑنے کی کوششیں اقتصادی عالمگیریت کے اصولوں کے خلاف ہیں اور یہ تبدیلی کے مواقع گنوانے اور لوگوں کی فلاح و سکون کو نقصان پہنچانے کا باعث ہیں۔
چین اور یورپ کے ترقیاتی مقاصد میں طویل مدتی ہم آہنگی ہے۔ یورپ ،گرین، ڈیجیٹل اور اے آئی پر مبنی تبدیلیوں کو آگے بڑھا رہا ہے، جب کہ چین نئی معیاری پیداواری قوتوں اور اعلیٰ معیار کی کھلی معیشت کو وسعت دے رہا ہے۔ دونوں طرف سبز گھریلو آلات، نئی توانائی اور ذہین آلات جیسے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
گرمی کی یہ لہر آخرکار ختم ہو جائے گی، لیکن مارکیٹ کی طرف سے حاصل ہونے یہ سبق مزید اجاگر ہو گئے ہیں کہ تجارتی تحفظ پسندی آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں فراہم کرتی ہے اس کے برعکس کھلاپن اور تعاون ہی صحیح راستہ ہیں نیز وہ رکاوٹیں جو مارکیٹ کے اصولوں کے خلاف ہیں ، بنیادی طلب اور رسد کو نہیں روک سکتیں اور نہ ہی وہ صارفین کے انتخاب میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔