جدید دور میں جدیدیت کا حصول نہ صرف چینی عوام کی مسلسل کوشش رہی ہے بلکہ یہ دنیا بھر کے عوام کا مشترکہ مطالبہ بھی ہے۔
"چین کامیاب ہو سکتا ہے، دوسرے ترقی پذیر ممالک بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔" "ہمارے پاس چینی طرزِ جدیدیت کو آگے بڑھانے کا عزم ہے اور اعلیٰ سطحی بیرونی کھلے پن کے ساتھ دنیا کے ساتھ ترقی کے مواقع بانٹنے کا وسیع حوصلہ بھی ہے۔ ہم اپنی ترقی کے ذریعے عالمی اقتصادی نمو میں اعتماد اور توانائی فراہم کریں گے۔" شی جن پھنگ کے پیش کردہ اہم موقف اور اہم بیانات چینی طرزِ جدیدیت کی کامیاب عملی مثالوں پر مبنی ہیں، جو اس عزم اور ذمہ داری کو ظاہر کرتے ہیں کہ چین، جدیدیت کے سفر میں دیگر ممالک کے شانہ بہ شانہ چلے گا، عالمی جدیدیت کو فروغ دے گا اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری تشکیل دینے میں کردار ادا کرے گا۔
چینی طرزِ جدیدیت ایسی جدیدیت ہے جو تمام عوام کی مشترکہ خوشحالی پر مبنی ہے۔ شی جن پھنگ کی قیادت میں چین ہمیشہ، عوام کی بہتر زندگی کی خواہش کو جدیدیت کے عمل کا نقطۂ آغاز اور مرکز بناتا آیا ہے اور مشترکہ خوشحالی کو ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھاتا رہا ہے۔
"پندرہویں پانچ سالہ منصوبے " کا خاکہ ،عوام کی مرکزیت کے حامل ترقیاتی نظریے پرمبنی ہے ، مشترکہ خوشحالی کے ہدف پر ثابت قدمی کے ساتھ کاربند ہے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور فلاح و بہبود میں اضافے نیز تمام عوام کی مشترکہ خوشحالی کو عملی طور پر آگے بڑھانے کے حوالے سے سٹریٹجک منصوبہ بندی کرتا ہے۔ یہ اگلے پانچ سالوں کے لیے چین کی معاشی اور سماجی ترقی کا خاکہ پیش کرتا ہے اور دنیا کو "امکانات کی فہرست" بھی فراہم کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے 2030 کے ایجنڈے میں غربت کے خاتمے کا ہدف وقت سے پہلے حاصل کرنا، فی کس جی ڈی پی کومسلسل تین سال تک 13 ہزار ڈالر سے متجاوز رکھنا نیز تعلیم، سماجی تحفظ اور صحت کے شعبوں میں دنیا کے سب سے بڑے نظام کا قیام ، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ چینی طرز کی جدیدیت کا مرکز عوام ہے، کسی کو پیچھے نہیں چھوڑتی اور یہ عالمی سطح پر ایک روشن مثال ہے۔
شی جن پھنگ عوام سے جڑے ہوئے ہیں اور عالمی معاملات میں وسیع النظر ہیں۔ انہوں کہا کہ : "جدیدیت کا حصول دنیا کے تمام ممالک کا ایسا حق ہے جو سلب نہیں کیا جا سکتا " اور "تمام ممالک کے عوام کی بہتر زندگی کی آرزو ہی ہماری منزل ہے۔"
بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل کے تصور کے تحت، چین ہمیشہ چینی عوام کے مفادات کو مضبوطی سے دوسرے ممالک کے مفادِ عامہ کے ساتھ منسلک کرتا ہے اور چینی طرزِ جدیدیت کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک کی جدیدیت کے عمل کو آگے بڑھاتا ہے۔
چین اور افریقا مل کر منصفانہ، معقول، کھلے اور باہمی مفادات پر مبنی، عوام کو ترجیح دینے والی، متنوع و جامع، ماحول دوست اور پرامن و محفوظ جدیدیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس سال یکم مئی سے، چین نے سفارتی تعلقات رکھنے والے 53 افریقی ممالک کے لیے تمام مصنوعات پر "زیرو ٹیرف" کا نفاذ کیا اور "گرین چینل" کو اپ گریڈ کرکے افریقا سے چین کو درآمد کی جانے والی مصنوعات کی رسائی کو مزید بڑھایا ہے۔ تجارتی ترقی ، صنعتی سلسلوں میں تعاون اور رابطے سے متعلق شراکت دارانہ اقدامات افریقا کی خود مختار ترقی کی صلاحیت کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں۔
—چین اور وسط ایشیائی ممالک باہمی احترام، اعتماد، فائدے اور تعاون کی بنیاد پر اعلیٰ ترقیاتی معیار کے ذریعے مشترکہ جدیدیت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے، چین-تاجکستان ہائی وے ، چین-ازبکستان ماڈرن ایگریکلچر سائنس اینڈٹیکنالوجی ڈیمو نسٹریشن پارک اور لوبان ورکشاپ جیسے منصوبے جغرافیائی اور تکنیکی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے خطے کی جدیدیت کی صلاحیت کو نمایاں کرتے ہیں۔
چین اور لاطینی امریکا کے ممالک گورننس کے تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں، عوامی فلاح کے "چھوٹے لیکن مفید" منصوبوں پر عملدرآمد کرتے ہیں، نئے شعبوں میں تعاون کو وسیع کرتے ہیں نیز سرکاری سکالرشپ فراہم کرنے اور غربت کے خاتمے کے لیے تکنیکی اہلکاروں کی تربیت جیسے اقدامات کے ذریعے مشترکہ ترقی کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔
عرب ممالک کے ساتھ "تعاون کے پانچ اہم نمونوں" کی تشکیل، جزائر بحرالکاہل ممالک کے ساتھ "تعاون کے چھ پلیٹ فارمز" کا قیام اور چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے تمام کم ترقی یافتہ ممالک کو تمام ٹیرف لائنز پر "زیرو ٹیرف" کی سہولت فراہم کرنا،جدیدیت کے مشترکہ خواب کی تکمیل کی راہ پر، "چینی عوام نہ صرف اپنی بہتری چاہتے ہیں بلکہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تمام ممالک کے عوام اچھی زندگی گزاریں۔"
شی جن پھنگ نے چار عالمی اقدامات پیش کیے، جو پرامن ترقی، باہمی مفادات پر مبنی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کی حامل جدید دنیا کی جانب راہنمائی کرتے ہیں۔
گلوبل ڈویلپمنٹ انیشئیٹو عالمی ترقی کے بارے میں اتفاقِ رائے کو مستحکم کرتا ہے اورعالمی ترقی کے نئے محرکات پیدا کرتا ہے؛ گلوبل سکیورٹی انیشئیٹو بین الاقوامی تنازعات کو مکالمے اور مشاورت سے حل کرنے پر توجہ دیتا ہے، جو ترقی کے لیے مستحکم ماحول فراہم کرتا ہے؛ گلوبل سولائزیشن انیشئیٹو تہذیبوں کے مابین باہمی رواداری اور باہمی سیکھ کو فروغ دیتا ہے نیز جدیدیت کے راستوں کے متنوع انتخاب کو ممکن بناتا ہے؛ گلوبل گورننس انیشئیٹو عالمی گورننس سے اصلاحات اور بہتری کے ذریعے تمام عوام میں خوشحالی، اطمینان اور تحفظ کا احساس بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ چار عالمی اقدامات، الجھنوں اور تنازعات سے بھری اس دنیا کو یقین و اعتماد فراہم کرتے ہیں، انسانی ترقی اور پیش رفت کے لیے تقویت فراہم کرتے ہیں، اور ہر ملک، ہر قوم اور ہر فرد کی بہتر زندگی کی آرزو کا جواب مہیا کرتے ہیں۔
نومبر 2024 میں، شی جن پھنگ نے پیرو کی بندرگاہ چانکے کا افتتاح ہوتے دیکھا ۔ آج یہ جدید بندرگاہ جنوبی امریکا کے بحرالکاہلی ساحل پر ایک نیا مرکز بن رہی ہے۔
بہار 2025 میں،شی جن پھنگ نے کمبوڈیا کے رہنماؤں کے ساتھ تعاون کے عظیم منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ "صنعتی ترقی کی راہداری"، "چاول اور مچھلی کی راہداری" اور فونان ٹیکو انٹیگریٹڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ پروجیکٹ جیسے تعاون کے منصوبے ، دونوں ممالک کے عوام کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچائیں گے۔
اکتوبر 2025 میں،شی جن پھنگ کی ذاتی دلچسپی کا حامل منصوبہ — ہنگری-سربیا ریلوے کا سربیائی حصہ مکمل طور پر کھول دیا گیا، جس سے سربیا اور اس کے پڑوسی ممالک و علاقوں کے مابین رابطے مزید مضبوط ہوئے۔
مئی 2026 میں، چین سمیت 53 ممالک اور 9 بین الاقوامی اداروں نے مشترکہ طور پر " غربت کے خاتمے اور ترقی کے لیے عالمی شراکت داری "پر مشتمل اتحاد قائم کیا، جس کا مقصد بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل کے لیے مل کر کام کرنا ہے جس میں غربت نہیں مشترکہ ترقی ہو ۔ اس نے دنیا سےغربت کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نئی توانائی فراہم کی۔
چھوٹے چھوٹے چشمے ملتے ہیں تو سمندر بنتا ہےاور چھوٹی چھوٹی کرنیں مل کر آسمان کو روشن کرتی ہیں۔ چینی اقدامات دنیا بھر میں جڑ پکڑ رہے ہیں اور جدیدیت کی ہر ایک جاندار کہانی مل کر عالمی جدیدیت کا شاندار منظر پیش کرتی ہے۔
" ہمیں ہمیشہ، عوام کے تشویش کو اپنی تشویش سمجھنا چاہیے، دنیا کے مفاد کو اپنا مفاد سمجھنا چاہیے اور عوام کی فلاح و بہبود میں اضافے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔"
چین دیگر ممالک کے ساتھ مل کر جدیدیت کی راہ پر گامزن رہے گا، تاکہ ہر ایک کی انفرادی کوششیں مل کر عالمی خوشحالی اور ترقی کی عظیم موج بن سکیں۔