مقامی وقت کے مطابق 8 جولائی کی علی الصبح ایران کے جنوبی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایران پر ایک نئی فوجی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ دوسری جانب ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا کہ امریکی "جارحیت" کے "ابتدائی جواب" کے طور پر کارروائی کے دوران امریکی فوج کی 85 اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
27 اور 28 جون کے بعد یہ دس روز کے وقفے سے دوسرا موقع ہے جب امریکہ نے تجارتی جہازوں پر حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے ایران پر حملہ کیا ہے۔ اسی روز خلیجی ممالک بحرین اور کویت میں بھی فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بجا دیے گئے، جبکہ آبنائے ہرمز کے علاقے میں ایک بار پھر جنگی کشیدگی بڑھ گئی۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے 8 جولائی کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکہ کی جانب سے ایران۔امریکہ مفاہمتی یادداشت کی "سنگین خلاف ورزی" کی شدید مذمت کی۔
قالیباف نے کہا کہ امریکہ نے ایران۔امریکہ مفاہمتی یادداشت کے پانچ نکات کی خلاف ورزی کی ہے، جن میں آبنائے ہرمز میں ایران کے انتظامی اقدامات کو سبوتاژ کرنا، ایران پر مزید حملوں کی مسلسل دھمکیاں دینا، تیل سے متعلق پابندیاں دوبارہ نافذ کرنا، ایران کے جنوبی علاقوں پر حملہ کرنا، اور اسرائیل کی جانب سے لبنان کے خلاف جاری جارحیت شامل ہیں۔