مقامی وقت کے مطابق 14 تاریخ کو اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لئی نے نشاندہی کی کہ بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں نئے تنازعات اور بدامنی کو ہوا دینا بند کرے۔
سن لئی نے کہا کہ بحیرہ احمر کے مسئلے کے حل کے لیے عالمی قوانین کا احترام، تمام ممالک کے جائز حقوق کا تحفظ، یمن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام اور علاقائی صورتحال میں مجموعی طور پر کشیدگی میں کمی لانا ضروری ہے۔چین نے واضح کیا کہ گزشتہ دو برس سے زائد عرصے میں یمن اور بحیرہ احمر کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایک واضح نتیجہ سامنے آتا ہے کہ امریکہ کو بحیرہ احمر میں پیدا ہونے والی کشیدگی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
چین کی جانب سے زور دیا گیا کہ امریکہ کو اپنی غلط پالیسیوں اور اقدامات کے منفی اثرات کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور بحیرہ احمر اور پورے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن و استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔