
16 جولائی کو شنگھائی میں عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے قیام کے معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں 29 ممالک کے نمائندوں نے بانی ارکان کی حیثیت سے معاہدے پر دستخط کیے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے 17 تاریخ کو یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ آئندہ مرحلے میں چین تنظیم کے جلد قیام اور فعال آپریشن کو فروغ دینے کے لیے دیگر بانی رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔انہوں نے کہا کہ چین اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد کی پیروی کرتے ہوئے مشاورت، تعاون اور مشترکہ فوائد کے اصولوں کو برقرار رکھنے اورعوام کو اولین ترجیح دینے کے لئے تیار ہے۔ چین تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کی ترقی کی حکمت عملیوں، حکمرانی کے ضوابط اور تکنیکی معیارات کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنائے گا اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور عالمی حکمرانی کو فروغ دے گا، تاکہ مصنوعی ذہانت کی صحت مند اور منظم ترقی کو یقینی بنایا جا ئے اور یہ ٹیکنالوجی زیادہ فائدہ مند، محفوظ اور منصفانہ سمت میں آگے بڑھ سکے ۔