مقامی وقت کے مطابق 13 اگست کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اپنی پہلی "ملٹی ڈومین، ملٹی نیشنل اٹیک ڈرون ٹاسک فورس " کے قیام کا اعلان کیا۔ بیان کے مطابق اس فورس میں امریکہ اور خطے کے اتحادی ممالک کے فوجی اہلکار مشترکہ طور پر کام کریں گے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں ڈرون حملوں کی صلاحیتوں کو ایک متحد، ملٹی ڈومین اور ملٹی نیشنل ڈیٹرنٹ فورس میں ضم کیا جائے گا۔
اسی روز ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ سپریم لیڈر نے واضح اسٹریٹجک فیصلہ کیا ہے کہ اگر ایران کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو ایران تنازع بڑھا کر جواب دے گا۔ مخبر کے مطابق موجودہ صورتحال نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اپنے خلیجی اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک نئے علاقائی نظم و نسق کے قیام کا زیادہ پائیدار راستہ "ہرمز اکنامک سیکیورٹی میکانزم" کے نفاذ کو فروغ دینا ہے، تاکہ خطے کے ممالک امریکی فوجی ضمانتوں پر انحصار کم کر سکیں۔اسی روز ایرانی مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹرز خاتم الانبیا کے ترجمان نے ایک بیان میں اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز پر "مکمل کنٹرول" ایران کے پاس ہے اور امریکہ کا یہ دعویٰ کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہاز معمول کے مطابق گزر رہے ہیں، "سراسر جھوٹ" ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے 13 اگست کو کہا کہ امریکی فوج کے پاس ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کو "غیر معینہ مدت تک" برقرار رکھنے کے لیے فوجی صلاحیت موجود ہے۔



