• صفحہ اول>>چین پاکستان

    پیش رفت، اشتراک اور باہمی ترقی کا راستہ

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-08-14

    14اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) پاکستانی سینیٹر انوار الحق کاکڑ کے دفتر میں داخل ہوں تو توجہ، کتابوں کی دو الماریوں میں سجی کتب، ٹرافیز، یادگاری اشیا اور تصاویر میں سے ایک تصویر پر جاتی ہے۔ یہ 2023 میں، بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں صدر شی جن پھنگ اور انوارالحق کی مشترکہ تصویر ہے۔

    اکتوبر 2023 میں، پاکستان کے نگران وزیر اعظم کی حیثیت سے، انوار الحق کاکڑ نے تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم فار انٹرنیشنل کوآپریشن میں شرکت کے لیے چین کا دورہ کیا۔ افتتاحی تقریب میں صدر شی جن پھنگ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ چین تمام فریقین کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو گہرا کرنے، اسے اعلیٰ ترقیاتی معیار کے نئے مرحلے میں داخل کرنے اور عالمی ممالک کی جدیدیت کے لیے مسلسل کوشش جاری رکھنے کو تیار ہے۔ انہوں نے اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کی حمایت کے لیے چین کے آٹھ اقدامات کا اعلان بھی کیا۔

    انوار الحق نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کے کلیدی خطاب میں وسیع تصور اور روشن خیالی نظر آئی، جس نے سب کو پیش رفت، اشتراک اور باہمی ترقی کی راہ دکھائی۔ صدر شی جن پھنگ نے اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے لیے اہم رہنمائی فراہم کی، عالمی امن اور ترقی کے لیے سمت متعین کی اور تمام فریقین کو مشترکہ طور پر بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر اور انسانیت کا روشن مستقبل تشکیل دینے کے لیے مزید اعتماد اور توقعات مہیا کیں۔

    انہوں نے اس فورم کے بعد، بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں صدر شی جن پھنگ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک گھنٹے کی ملاقات میں انہوں نے، پاک-چین تعاون اور ترقی کے لیے صدر شی جن پھنگ کی توجہ اور توقعات کو محسوس کیا۔ انہوں نے صدر شی جن پھنگ کے خطاب کی دور اندیشی اور گہرائی کو سراہا کہ جس نے مشترکہ تعمیر میں شریک ،پاکستان جیسے ممالک کو ترقی کے مواقع فراہم کیے ہیں اور کہا کہ ہم ان کے خطاب کے متن اور ترغیب کو واپس اپنے ملک لے جائیں گے۔

    اپریل 2015 میں، صدر شی جن پھنگ نے پاکستان کے سرکاری دورے کے دوران پاکستانی پارلیمنٹ سے کیے گئے ایک اہم خطاب میں، "1+4" تعاون کے فریم ورک کی تجویز پیش کی تاکہ ترقیاتی نتائج پاکستان کے تمام عوام تک پہنچ سکیں۔ انوار الحق اس وقت بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان تھے، انہوں نے صدر شی جن پھنگ کے خطاب کا فوری مطالعہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے آبائی علاقے بلوچستان میں، گوادر بندرگاہ کی تعمیر کا کام مسلسل جاری ہے، جس نے علاقائی رابطوں کو مضبوط کیا ہے۔ دونوں فریقین کے تعاون سے چلنے والے "چھوٹے لیکن مفید" منصوبوں کے ذریعے مقامی رہائشیوں کے گھروں میں فوٹو وولٹک انرجی سٹوریج اور فوٹو وولٹک واٹر پمپ جیسے آلات کی تنصیب ہوئی ہے، جس سے عوام کی زندگی میں بہتری آئی ہے۔

    جیسے جیسے چین-پاکستان اقتصادی راہداری کو ورژن 2.0 میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے میں دونوں ممالک کے تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی مسلسل فراہمی اور سڑکوں کے علاقوں کے ساتھ منسلک ہونے سے، دونوں ممالک صنعتی پارکس، زراعت و کان کنی اور نئی توانائی وغیرہ کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔

    10 سال سے زائد عرصے میں، چین-پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کا کام مسلسل جاری ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ تعاون نے پاکستان کو ترقی کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ "خوشحال ہونا ہے تو پہلے سڑک بناؤ" سے لے کر مقامی حالات کے مطابق صنعتوں کی ترقی اور سبز پائیدار ترقی کو فروغ دینے تک، چین-پاکستان اقتصادی راہداری نے اعلیٰ معیار کے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے پاکستانی عوام کے سامنے چینی طریقہ کار کے فوائد عیاں کیے ہیں۔

    انوار الحق کا کہنا تھا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے، پاکستان کو چین سے بہتر طور پر سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ چین نے شاندار ترقیاتی نتائج حاصل کیے ہیں اور چین کے ترقیاتی تجربات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے قابل تقلید ہیں۔ پاکستان میں موجود، چین کے زرعی ماہرین، انجینئرز اور کاروباری افراد، پاکستان کی ترقی کے لیے کلیدی ٹیکنالوجی اور انتظامی تجربات لائے ہیں، مقامی افرادی قوت کو تربیت دی ہے اور پاکستان کی جدید ترقی میں معاونت فراہم کی ہے۔

    نگران وزیرِ اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد، انوار الحق کاکڑ پاکستانی سینیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کئی بار چین کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے، ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون کے شراکت دار کی حیثیت سے، چین کے بنیادی مفادات اور اہم خدشات سے متعلقہ معاملات میں ہمیشہ چین کی بھرپور حمایت کی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان طویل مدتی دوستانہ تعاون کے شاندار نتائج، دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک مثال بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جتنا زیادہ اپنے چینی دوستوں سے رابطہ کرتے ہیں ان کا تعلق جتنا گہرا ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیے چین کو مزید جاننا اور سمجھنا کتنا اہم ہے۔ ان کے خیال میں، چین کے دوست اور پڑوسی کے طور پر، پاکستان صرف اس صورت میں اپنی صنعتی اور جدید ترقی کو بہتر طور پر فروغ دے سکتا ہے جب وہ جامع انداز میں اس بات کو سمجھے کہ چین نے ترقی کیسے کی اور اس میں بہتر طریقے سے شمولیت کیسے کی جا سکتی ہے۔

    انوار الحق نے کہا کہ آج، عالمی معیشت اور عالمی سلامتی کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن چین ہمیشہ اقوام متحدہ کے نظام اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھتا ہے، کھلے پن پر مبنی تعاون، بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظام کو فروغ دیتا ہے، جو عالمی استحکام کو برقرار رکھنے کی اہم قوت ہے۔ ان کی رائے میں اب زیادہ سے زیادہ ممالک اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ چین کے ساتھ تعاون کا مطلب، امن اور ترقی کے ساتھ کھڑا ہونا اور باہمی مفادات پر مبنی تعاون کا انتخاب کرنا ہے۔صدی پر محیط تبدیلی تیز ہو رہی ہے اور صدر شی جن پھنگ کے چار عالمی اقدامات بروقت ہیں، جو تمام ممالک کو امن کے اشتراک، ترقی کی مشترکہ منصوبہ بندی اور ایک بہتر دنیا کی تشکیل میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کو فخر ہے کہ وہ ان اقدامات کا مضبوط حامی ہے۔

    رواں سال، چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ ہے اور دونوں ممالک نے مختلف یادگاری تقریبات کا انعقاد کیا ہے۔ انوار الحق کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ممالک کی دوستی کا ایک اہم تاریخی سنگ میل ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے ایک دوسرے کو زیادہ بہتر طور پر جاننے کا ایک اچھا موقع ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، دونوں ممالک اقتصادی و تجارتی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ثقافتی تبادلوں جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کریں گے، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد پہنچ سکیں اور دونوں ممالک، بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل کی مثال بن سکیں۔

    ویڈیوز

    زبان