
24 اگست کو بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چینی صدر شی جن پھنگ نے چین کے دورے پر آئے ہوئے اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کی۔
صدرشی جن پھنگ نے کہا کہ 2015 میں دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر چین-اردن اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس سے دوطرفہ تعلقات کی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا تھا۔ چین، خطے میں اردن کے منفرد اور اہم کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے نیز اپنی قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ میں اردن کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ شی جن پھنگ کا کہنا تھا کہ چین-اردن تعاون، بنیادی طور پر باہمی فائدے اور جیت-جیت کے نتائج پر مبنی ہے۔ چین، اردن کے ساتھ مل کر چار گلوبل انیشی ایٹوز کو نافذ کرنے، اقوام متحدہ کی مرکزیت پر مبنی بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی عالمی نظم و نسق کے تحفظ نیز بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ اردن اور چین نے مضبوط تزویراتی شراکت داری قائم کی ہے اور اردن ایک چین کی پالیسی پر ثابت قدمی سے قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ، چین کے ساتھ تجارت، مینوفیکچرنگ، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، طب، ثقافت اور تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں تعاون اور تبادلوں کو گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے صدر شی جن پھنگ کے تجویز کردہ چار گلوبل انیشی ایٹوز کو سراہتے ہوئے کہا کہ اردن عالمی سطح پر چین کے مزید اہم قائدانہ کردار کا منتظر ہے۔
دونوں سربراہان مملکت نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اردن کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے امور پر چین کے مستقل اور منصفانہ موقف کو سراہتے ہوئے شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ اردن، چین کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھنے اور موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مثبت کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ بات چیت کے بعد دونوں سربراہان مملکت نے سفارت کاری، تجارت و معیشت، صنعتی و سپلائی چینز اور انصاف کےشعبوں میں تعاون کی متعدد دستاویزات پر دستخطوں کا مشترکہ طور پر مشاہدہ کیا۔ فریقین نے چین-اردن تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے حوالے سے مشترکہ بیان بھی جاری کیا۔ شام کو چینی صدر شی جن پھنگ نے عظیم عوامی ہال میں شاہ عبداللہ دوم کے اعزاز میں استقبالیہ ضیافت کا اہتمام بھی کیا۔
اسی روز چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے بھی اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کی۔