8 ستمبر کو، چینی صدر شی جن پھنگ نے برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم کی درخواست پر ان سے ٹیلی فونک بات چیت کی۔
شی جن پھنگ نے اینڈی برنہم کو برطانوی وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ چین اور برطانیہ جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے سماجی نظام اور قومی حالات مختلف ہیں، تاہم دونوں کے مشترکہ مفادات ان کے اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔ دونوں فریقوں کو باہمی احترام و اعتماد برقرار رکھنا چاہیے، اختلافات سے بالاتر ہو کر اور اختلافات سے نمٹتے ہوئے مشترکہ بنیاد تلاش کرنی چاہیے اور باہمی مفادات پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دینا چاہیے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ دونوں حکومتیں، معاشی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں، اس لیے دونوں ممالک ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دوسرے کی معاونت کر سکتے ہیں۔ چین 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران تعلیم، طبی نگہداشت اور مالیات سمیت مختلف شعبوں میں بیرونی دنیا کے لیے اپنے دروازے مزید کھولے گا، جو چین اور برطانیہ کے درمیان تعاون کے اہم شعبے بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین اور برطانیہ دونوں ، سائنسی و تکنیکی صلاحیتوں کے حامل بڑے ممالک ہیں جو تعلیم، ثقافت اور کھیل سمیت مختلف شعبوں میں وسیع وسائل رکھتے ہیں۔ دونوں فریقوں کو مستقبل پر مبنی کھلا رویہ برقرار رکھتے ہوئے مختلف شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ برطانیہ ،چینی سرمایہ کاروں کے جائز حقوق و مفادات کا مکمل تحفظ کرے گا۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور دنیا کی بڑی معیشتوں کے طور پر چین اور برطانیہ، کثیرالجہتی اور کھلی تجارت کی حمایت کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کو اقوام متحدہ کی مرکزی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے اقوام متحدہ، گروپ آف 20، عالمی تجارتی تنظیم اور دیگر فریم ورکس کے تحت رابطوں اور تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے اور مساوی اور منظم عالمی کثیر قطبیت کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ، چین کے ساتھ اعلیٰ سطحی تبادلے بڑھانے، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے، عوامی و ثقافتی تبادلوں کو مضبوط بنانے، دوطرفہ تعلقات کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر بحال کرنے اور دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد پہنچانے کے لیے تیار ہے۔
اینڈی برنہم نے کہا کہ تائیوان کے معاملے پر برطانیہ کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ موجودہ پیچیدہ اور ہنگامہ خیز بین الاقوامی صورتحال میں، سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی حیثیت سے برطانیہ اور چین کو بین الاقوامی تنازعات اور اہم مسائل کے حل کے لیے بات چیت کو فروغ دینا چاہیے، ماحولیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنا چاہیے اور عالمی استحکام و خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے چین کے شی زانگ خوداختیار علاقے کی جی رونگ کاونٹی میں مٹی کے تودے کے باعث ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے چین کے مؤثر اقدامات کو سراہا اور متاثرہ برطانوی شہریوں کو مدد فراہم کرنے پر چین کا شکریہ ادا کیا۔