چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے 21 اکتوبر کو معمول کی پریس کانفرنس میں کہا کہ چین جاپان کے خلاف قوانین اور ضوابط کے مطابق برآمدی کنٹرول کے اقدامات کر رہا ہے، جن کا مقصد جاپان کی دوبارہ عسکریت پسندی اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کو روکنا ہے۔
یہ بیان ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں سامنے آیا کہ جاپان کے پاس نایاب زمینی عناصر یٹریئم کے ذخائر صرف چند ماہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں اور اس نے امریکہ سے چین کو متعلقہ برآمدی پابندیوں میں نرمی پر آمادہ کرنے میں مدد کی درخواست کی ہے۔
ماؤ ننگ نے کہا کہ اہم معدنیات کی عالمی صنعتی و سپلائی چینز کے استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے چین کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے تعمیری کردار ادا کریں۔