• صفحہ اول>>چین کے رنگ

    ریشم کے کیڑے کی افزائش ، شائن شی میں خوشحالی کے راستے کھول رہی ہے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-08-07

    7 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)شدید گرمیوں کی چمکتی دھوپ میں شمال مغربی چین کے صوبے شائن شی کے شہر یان آن کی کاونٹی یان چھوان میں ریشم کے کیڑوں کی افزائش کے مقام پر کوکون جمع کرتے ہوئے کاشت کار کامیاب سیزن کی تکمیل پر بے حد مسرور ہیں۔ 68 یوان (تقریباً 9.47 ڈالر)فی کلوگرام! اس سال کے کوکون تو غیر معمولی معیار کے ہیں اور قیمت میں بھی زیادہ ہیں، جیانگ سو صوبے سے تعلق رکھنے والے خریدار شیاو گان لیانگ کے الفاظ ، مقامی کاشت کاروں کی خوشی کو اور بڑھا دیتے ہیں۔

    شمال مغربی چین کے صوبے شائن شی کے شہر یان آن کی کاونٹی یان چھوان کے گاؤں وانگ جیا گو میں ریشم کے کیڑے کے خول دیکھے جا سکتے ہیں ۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/لی جی چیانگ )

    شمال مغربی چین کے صوبے شائن شی کے شہر یان آن کی کاونٹی یان چھوان کے گاؤں وانگ جیا گو میں ریشم کے کیڑے کے خول دیکھے جا سکتے ہیں ۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/لی جی چیانگ )

    کاونٹی کے بیورو برائے زرعی و دیہی امور کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ،اس علاقے میں شہتوت کے پتے اعلیٰ معیار کے ہیں، ان میں لحمیات، چربی، اور حل پذیر شکر کی مقدار جنوبی علاقوں سے زیادہ ہے نیز یہاں کے غاروں کا درجہ حرارت ،ریشم کے بڑے کیڑوں کی پرورش کے لیے مثالی ہے۔

    لوئس سطحِ مرتفع میں واقع اس کاؤنٹی میں ریشم کی کیڑے کی صنعت کی کامیاب ترقی، مضبوط صنعتی بنیادوں، مستحکم پالیسی حمایت اور ترقی کے جدید طریقوں کے بغیر ممکن نہیں تھی۔2018 سے 2021 کے درمیان، کاؤنٹی نے یانگ جیا پھنگ گاوں میں ، شہتوت کی کاشت اور ریشم کی کیڑوں کی افزائش و پرورش کا ایک پائلٹ منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبےکے شاندار نتائج نے توسیع کی بنیاد فراہم کی اور کاؤنٹی نے 2022 میں ریشم کی کیڑے کی صنعت کی جامع ترقی کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں معاشی طور پر کمزور اس گاؤں میں ایک خصوصی عملی منصوبہ جاری کیا گیا جس میں پودے لگانے اور کوکون کے لیے ترجیحی پالیسیز متعارف کروائی گئیں۔ ان اقدامات سے مقامی کسانوں کو اپنے ہی علاقے کے غاروں میں ریشم کی کیڑے پالنے اور اس کے ذریعے خوشحالی حاصل کرنے کا موقع ملا۔

    گاؤں وانگ جیا گو میں خام ریشم حاصِل کَرنے کے لیے ریشم کے کیڑوں کی پرورِش اور دیکھ بھال کے مرکز میں، پارٹی کے سربراہ فینگ لی پنگ نے ریشم کی کیڑے کی پرورش کے تقاضوں کی پیچیدہ تکنیک کو مقامی رہائشیوں کے لیے عملی رہنمائی کے ذریعے آسان بنا دیا۔

    شمال مغربی چین کے صوبے شائن شی کے شہر یان آن کی کاونٹی یان چھوان میں کسان شہتوت کے پتے چن رہے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/ لی جی چیانگ)

    شمال مغربی چین کے صوبے شائن شی کے شہر یان آن کی کاونٹی یان چھوان میں کسان شہتوت کے پتے چن رہے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/ لی جی چیانگ)

    ستمبر 2024 میں ، ریشم کے کیڑوں کی افزائش کے حوالے سے گاؤں نے اس وقت ایک اہم سنگ میل عبور کیا جب پہلی مرتبہ ریشم کے کیڑوں کے انڈے افزائش کے غرض سے غاروں میں پہنچائے گئے۔ فینگ لی پنگ بتاتے ہیں کہ ابتدا میں تو گاؤں والے کافی فکر مند تھے ، مثلاً انہیں یہ فکرتھی کہ کیا وہ ریشم کے کیڑے پالنے میں کامیاب ہو سکیں گے؟ کیا ان سے اچھا منافع حاصل کیا جاسکے گا؟ اور کیا قابلٰ بھروسہپ مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو سکے گی ؟اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں خود کو ایک مثال بناوں اور پھر میں نے ریشم کی کیڑوں کی افزائش سے 6,700 یوان سے زیادہ کما کر دکھایا۔جب گاؤں والوں نے اچھا منافع دیکھا تو رفتہ رفتہ وہ بھی اس فارمنگ کو اپنانے لگے اور اس سال، مزید چھ گھرانوں نے ریشم کے کیڑے پالنے کا طریقہ سیکھا۔

    ریشم کے کیڑے کی افزائش اور پرورش کا کام بھرپور توجہ کا متقاضی ہے۔ اس کے لیے نہ صرف شہتوت کے پتوں کی مستقل فراہمی کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ کوکونریز میں درجہ حرارت اور نمی کو سختی سے کنٹرول کرنابھی ضروری ہے۔

    جولائی کے آخر میں کاؤنٹی کے جانوروں کی پرورش اور ویٹرنری سروس سینٹر کی نائب ڈائریکٹر لیو یان فن دن رات ،شہتوت کے باغات توت کے کوکونریز میں بلا تکان کام کر تی رہیں۔ وہ ،کٹائی، آبپاشی اور کھاد کا بندوبست کرنے کے سائنسی طریقوں نیز ماحول دوست کیڑوں پر کنٹرول کے طریقوں کے حوالے سے کسانوں کو رہنمائی دیتی رہیں۔

    شائن شی صوبے کے شہر یان آن کی کاونٹی یان چھوان میں کاشت کار ، چین کے صوبے جیانگ سو سے آئے ہوئے خریدار کے لیے ریشم کی کیڑے کے خول (کوکون)ٹرک پر لاد رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ ، یان چوان کاؤنٹی میڈیا کنورجنس سینٹر )

    شائن شی صوبے کے شہر یان آن کی کاونٹی یان چھوان میں کاشت کار ، چین کے صوبے جیانگ سو سے آئے ہوئے خریدار کے لیے ریشم کی کیڑے کے خول (کوکون)ٹرک پر لاد رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ ، یان چوان کاؤنٹی میڈیا کنورجنس سینٹر )

    ریشم کے کیڑے کی صنعت کے عملی فوائد نے مقامی طرزِ زندگی کو شاندار تبدیلی کا موقع فراہم کیا ہے۔ مقامی کسان جانگ وی شنگ کا کہنا ہے کہ رواں سال انہوں نے 302.5 کلوگرام کوکون حاصل کیے اور 20,000 یوان سے زیادہ کمائے ۔

    کاؤنٹی نے دیہات کی مشترکہ ملکیت کی حامل 18 کوکونریز کی مدد سے اب تک، 16,000 مو (تقریباً 1,067 ہیکٹر) کے رقبے پر پھیلے شہتوت کے باغات کو مستحکم انداز میں برقرار رکھا ہے ۔ یہ باغات ریشم کے کیڑوں کے 1,350 ریکس اور 256 خصوصی مشینوں سے لیس ہیں جب کہ چھ دیہات میں شہتوت کے باغات کے لیے ڈرپ آبپاشی کا نظام اختیار کیا گیاہے۔

    2025 میں، کاؤنٹی کی کوکون کی پیداوار 60 ٹن اور آمدن 5 ملین یوان سے متجاوز ہونے کی توقع ہے ۔

    ویڈیوز

    زبان