8 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)قازق قومت کا چرواہا ، جانشان سلاپی اگرچہ عمر کی پانچویں دہائی کے آخری حصے میں ہے ،لیکن اپنی قومیت کے روایتی عقاب رقص کو پیش کرتے ہوئے وہ ایک نوجوان کی طرح شست اور لطیف انداز میں حرکت کرتاہے۔
جانشان سلاپی کا تعلق، شمال مغربی چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے دارالحکومت ارمچی کے قصبے آکسو سے ہے ،جو برف سے ڈھکے ہوئے تیان شان پہاڑوں کے سائے میں بوگدا پہاڑ کے دامن میں آباد ہے ۔جانشان اس علاقے میں غیر مادی ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کیے جانے والے عقاب رقص کرنے والے گھرانے کی چوتھی نسل ہے۔انہوں نے پانچ سال کی عمر سے ہی اپنے والد سے اس کی رتبیت لینا شروع کر دی تھی ۔ جانشان کا کہنا ہے کہ عقاب کا سر چھ سمتوں میں گھوم سکتا ہے اور یہ قدرت کا وہ تحفہ ہے جو کسی اور پرندے کے پاس نہیں ہے۔
برسوں کی مشق اور محنت سے انہوں نے رقص کی مسحور کن حرکات میں شاندار مہارت حاصل کر لی ہے۔ اس رقص کے لیے ان کا عقاب کی ہئیت کا 20 کلو وزنی لباس سیاہ بکری کی کھال سے تیار کیا جاتا ہے ۔ اس لباس میں اسپرنگز اور پلیاں بھی شامل ہیں، عقاب کی گردن ایک زندہ گردن کے جوڑ کی طرح جھکتی ہے، اور چونچ گائے کے سینگ سے تراشی گئی ہے۔
جب موسیقی بلند ہوتی ہے سالپی یک لخت ایک نیا روپ دھار لیتے ہیں، جھکے سر سے گھومتے بل کھاتے ، پر پھیلائے غوطے لگاتے ،وہ عقاب کی روح کو زندہ کرتے ہیں۔ اس رقص کا عروج کا لمحہ "باز کا لومڑی کےشکار " کا منظر ہے ، جس میں ہر اشارہ اور حرکت صدیوں کی خانہ بدوشی کے ، عزم، جدوجہد اور فتح کو بیان کرتا ہے۔
" یہ رقص ، کبھی قازق قومیت کے لوگوں کی بقا کے لیے اہم تھا ، گھوڑے اور عقاب ان کے شکار کے ساتھی تھے۔جانشان کا اس روایت سے گہرا تعلق ہے ۔ بچپن سے، انہوں نے اپنے فن میں مشاہدے اور آباؤ اجداد کی حکمت کو ملا کر عقابوں کی جبلتوں کا مطالعہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عقاب ہمارے صرف شکار کا ہتھیار نہیں بلکہ خاندان کے فرد کی طرح ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہمیں انہیں دوبارہ جنگل میں چھوڑنا ہے ان کے ساتھ ہمارا ہر ہر لمحہ مقدس بناتا ہے اور یہی رشتہ اس رقص کی تحریک ہے۔
جانشان سلاپی کے مطابق، اس کے آباؤ اجداد نے شادیوں کے موقعوں پر یہ رقص کیا۔ آج، یہ لوک رقص ایک محفوظ ورثے کے طور پر بڑے اسٹیج پر فروغ پا رہا ہے۔ آکسو کے روایتی نمونوں سے بھرپور ثقافتی مرکز ، ایگل ڈانس اسکوائر میں سیاح اس رقص کی قوت اور گرم جوشی کا براہ راست تجربہ کرتے ہیں۔
سنکیانگ، مختلف قومیتی گروہوں کا گھر ہے۔ یہاں قومی سے لے کر ڈسٹرکٹ کی سطح تک غیر مادی ورثے کی 9,000 سے زائد اشیا اور فنون کے تحفظ کو یقینی بنایا گیاہے۔ یہ علاقہ 10,000 سے زائد وارثوں کی معاونت کرتا ہے، جس سے زندہ روایات کا ایک بھرپور مرقع تخلیق ہوتا ہے۔مقامی حکومت کی طرف سے ثقافتی تحفظ کے اقدامات اور پالسیز نے عقاب رقصکے ثقافتی ورثے اور آباو اجداد کے اس فن کو بچانے کے لیے جانشان کے مشن کو بڑھاوا دیا ہے۔ روایتی رقص کے لیے وقف عوامی اسکوائر تشکیل دینے کے علاوہ، مقامی حکام اس علاقے کے نمائندہ وارث ہونے کے ناطے انہیں تقریباً 4,800 یوان (تقریباً 670 امریکی ڈالر) کا سالانہ وظیفہ بھی دیتے ہیں اور وہ مقامی اسکولوں میں پڑھاتے بھی ہیں۔
جانشان سلاپی کہتے ہیں کہ یہ رقص میرے آباؤ اجداد کا ورثہ ہے۔ اسے منتقل کرنا میری ذمہ داری ہے، ان کا بڑا بیٹا بھی ان سے یہ فن سیکھ رہا ہے۔ آج جب کہ بہت سے نوجوان اپنی خانہ بدوش زندگیوں سے دور ہو کر جدید زندگی اپنارہے ہیں یہاں کے نوجوانوں میں ، عقاب رقص کے لیے بڑھتا ہوا شوق اور جذبہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ فن نہ صرف زندہ رہے گا بلکہ اس کی پرواز ان پہاڑوں سے بھی آگے ہوگی۔