• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    مارشل آرٹ اور ٹیکنالوجی کا ملاپ ہوا  تو خیالی کردار حقیقیت بن گئے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-01-30

    اپنی تیار کردہ ، "اڑن تلوار "پر سوار  فان شی سان ( فان شی سان کی ویڈیو سے لیا گیا سکرین شاٹ )

    اپنی تیار کردہ ، "اڑن تلوار "پر سوار فان شی سان ( فان شی سان کی ویڈیو سے لیا گیا سکرین شاٹ )

    30جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)ووشیا (مارشل آرٹس) کہانیوں سے متاثر ، چین کا آن لائن تخلیق کار فان شی سان ہمیشہ ایک خواب دیکھتا آیا تھا ، : ایک تلوار جو کلائی کے ایک جھٹکے پر اپنی نیام سے باہر نکلتی ہے، اپنے مالک کے حکم کی تعمیل کرتی ہے،صرف ایک بے جان ہتھیار نہیں ہوتی بلکہ اپنے مالک سے بات چیت بھی کر سکتی ہے۔ آج ،فان کے لیے یہ مناظر ناولز کے صفحات تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے اپنے اور اپنے جیسے خواب دیکھنے والوں کے لیے اس کو حقیقت میں تبدیل کردیا ہے۔

    1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے فان شی سان کا ، چھنگ دو کی پھی دو کاونٹی میں ایک ٹیک سٹوڈیو ہے۔سٹوڈیو کی دیواروں پر مختلف ساخت اور مٹیریلز کی 40 سے زیادہ تلواریں اور بلیڈز لٹکے ہوئے ہیں۔ ایک وائٹ بورڈ پر فارمولے لکھے گئے ہیں، جس کے گرد ٹیم کے اراکین جمع ہو کر جوش و خروش سے یہ بحث کر رہے ہیں کہ چینی مارشل آرٹس کے افسانوں میں بیان کردہ اندرونی توانائی " چی " تلوار کے ذریعے یا اس سے باہر بھی منتقل کی جا سکتی ہے۔

    فان شی سان کا کہنا ہے کہ وہ ووشیا ناول پڑھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں ، سیاہ لباس میں ملبوس ، ایک لمبی تلوار اٹھائے ہوئے ایک کردار فان کی ایک منفرد ذاتی تصویر جو ان کی اپنی تخلیق ہے ۔ سائنس کے ذریعے اس افسانوی کردار کو حقیقی دنیا میں لانا ان کی خواہش تھی ۔ 2020 میں انہوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدلنا شروع کیا۔ چھنگ دو میں ایک ہوٹل میں کام کرتے ہوئے فان نے اپنے فارغ وقت میں ویڈیو پروڈکشن سیکھی ، اس کی تلوار سے متعلق ویڈیوز آہستہ آہستہ مقبول ہونے لگیں، اور اس کے فالوورز کی تعداد ایک ملین سے زائد ہوگئی ۔ہوا میں معلق رہتے ہوئے تلوار پکڑے ووشیا کہانیوں میں بیان کردہ تصورات جیسے "شعلے کی تلوار،" "برف کی تلوار،" اور "بجلی کی دھار" اب صرف خیالی نہیں رہے، بلکہ متاثر کن بصری تخلیقات کی صورت میں سکرینز پر پیش کی جانے لگیں۔

    فان شی سان کی سٹوڈیو ٹیم اب چھ افراد پر مشتمل ہے ۔ فلم بندی، خاکہ و ڈیزائن، پروپس بنانے اور تکنیکی رہنمائی تک، نوجوان ٹیم روایتی مارشل آرٹس کے لیے اپنے جوش و خروش اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو ملا کر تخیل کو حقیقت میں بدل رہی ہے۔ان الیکٹریکل انجینئر بھی ہیں اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کرنے والے بھی ہیں خود فان نے طبیعیات اور کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔اس اعتبار سے ٹیم میں ہر فرد کا ایک واضح کردار ہے، ان کی مہارت ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہے۔

    فان شی سان تلواروں کی صف  کو کنٹرول کررہا ہے۔ (فین شیشان کی ویڈیو کا سکرین شاٹ)

    فان شی سان تلواروں کی صف کو کنٹرول کررہا ہے۔ (فان شی سان کی ویڈیو کا سکرین شاٹ)

    اپنے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے فان نے ہوا بازی کے ماہرین سے رہنمائی حاصل کی، تلوار کی دھاروں میں پرواز کے میکانزم کو شامل کیا اور وسیع پیمانے پر تجرباتی پروازیں کیں۔ "چی " کی تلاش اسے ، شی ہوا یونیورسٹی کے سائنس سکول کےمحققین کے ساتھ تعاون کی جانب لے گئی ، 130,000 فریم فی سیکنڈ تک کی تصویر کشی کرنے کی صلاحیت رکھنے والی جدید ٹیکنالوجیز کا حامل الٹرا ہائی سپیڈ کیمرا استعمال کرتے ہوئے "چی" کے نایاب مظہر کو بصری طور پر دستاویزی شکل دینا ممکن ہوا ۔ برق رفتار کارناموں سے لے کر اڑتی ہوئی تلواروں تک، فان جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مسلسل اپنی حدود کو وسیع کر رہاہے ۔

    فان شی سان کو  "بگوا چارجنگ فارمیشن" کے منظر میں فلمایا  جارہا ہے۔ (تصویر/نائی شوچی)

    فان شی سان کو "بگوا چارجنگ فارمیشن" کے منظر میں فلمایا جارہا ہے۔ (تصویر/نائی شوچی)

    یہ تلواریں چینی جمالیات سے مزین ہیں اور ایک قدیم مگر مستقل چینی انداز کو اجاگر کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک چھوٹی تلوار میں سان شنگ دوئی کھنڈرات سے ملے ہوئے نوادرات سے متاثرہ نمونے ہیں۔ ایک اور تلوار مشہور لونگ چوان تلوار کی عکاسی کرتی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان