• صفحہ اول>>چین پاکستان

    پاک۔چین دوستانہ تعاون کی بنیاد کو مزید مضبوط بناناچاہیے ۔ ظفر الدین محمود

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-02-02

    2فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)"چین میں تعلیم حاصل کرنے نے میری پوری زندگی بدل دی۔"یہ جملہ ظفر الدین محمود نے پیپلز ڈیلی کو دیئے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ۔ ظفر الدین محمود " انڈر سٹینڈنگ چائنا" فورم کے صدر اور وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا چین کے ساتھ زندگی بھر کا رشتہ قائم ہو چکاہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے مزید نوجوان بھی ایسے رشتے قائم کریں گے جو پاکستان اور چین کے درمیان دوستانہ تعاون کی بنیاد کو مزید مضبوط کریں گے۔

    ظفر محمود 1976میں، چینی زبان سیکھنے کے لیے چین آئے اور بیجنگ لینگوئج انسٹیٹیوٹ (جو اب بیجنگ لنگوئج اینڈ کلچر یونیورسٹی ہے) میں چینی زبان سیکھنے کا آغاز کیا۔ 1977 سے 1982 تک، انہوں نے گوانگ جو کے سن یات سین میڈیکل کالج (آج ، سن یات سین یونیورسٹی جونگ شان سکول آف میڈیسن ) میں تعلیم حاصل کی۔ گریجویشن کے بعد انہوں نےچین میں رہنے اور سرمایہ کاری و تجارت کے شعبے میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1998 میں، انہیں چین میں پاکستانی سفارت خانے میں اقتصادی و تجارتی مشیر مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد، انہوں نے شنگھائی میں پاکستان کے قونصل جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے لیے خصوصی نمائندے کے طور پر بھی کام کیا۔ 2017 میں عہدے سے مستعفی ہونے اور پاکستان واپس آنے کے بعد،ظفر محمود نے 2020 میں پاکستان "انڈرسٹینڈنگ چائنا" فورم کی بنیاد رکھی اور پاکستان کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ انہوں نے چین-پاکستان تعلقات کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

    ظفر محمود کے لیے اپنے تعلیمی دور کی سب سے ناقابلِ فراموش یاد ، اساتذہ اور ہم جماعتوں کے ساتھ قائم ہونے والی گہری دوستی ہے۔ بیجنگ میں انہوں نے اپنے ساتھی طلبہ کے ساتھ پہلی بار چینی اساتذہ کے گھر چینی سالِ نو کی شام منائی۔وہ یاد کرتے ہیں کہ دنیا بھر سے آنے والے طلبہ کے ساتھ چینی اساتذہ اور طلبہ کا رویہ گرم جوشی اور دوستانہ خلوص سے بھرا ہوا تھا، جس سے انہیں گھر جیسا احساس ہوا۔

    کئی دہائیوں پرانی یہ یادیں آج بھی ان کے ذہن میں یوں تازہ ہیں جیسے کل کی ہی بات ہو۔ ان کے ہم جماعتوں میں ایتھوپیا کے سابق صدر ملاتو تشومے بھی شامل تھے۔ ان کے لیے اور بہت سے دیگر غیر ملکی طلبہ کے لیے چین ان سب کا"دوسرا وطن" تھا۔

    گوانگ جو میں قیام کے دوران، انہوں نے مزید چینی دوست بنائے اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے چین میں ،لوگوں کے جذبات، محنت اور عزم کو قریب سے محسوس کیا۔وہ چینی عوام کی عاجزی، محنت اور مستقبل کے لیے پُرامید رہنے والے طرزِ زندگی کی دل سے تعریف کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک، چینی عوام مشکلات سے نہیں گھبراتے بلکہ مسلسل جدوجہد کے ذریعے اپنے خوابوں کو حقیقت بناتے ہیں۔

    ظفر محمود نے تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں زندگی کے 40 برس چین میں گزارے ،انہوں نے اصلاحات و کھلے پن کی پالیسی کے بعد چین کی معاشی و سماجی ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ان کا کہنا ہے کہ 1976میں چین کی اُس وقت کی سب سے بلند عمارت ، گوانگ جو کے بائیون ہوٹل سے لے کر آج چین کے مختلف شہروں میں بلند و متنوع شہری افق تک؛پاکستان سے چین میں درآمد کیے گئے ابتدائی جیٹ طیاروں سے لے کر آج چینی ساختہ ہائی سپیڈ ریلوے سسٹم اور بڑے مسافر بردار طیارے سی 919 تک ، چین کی ترقیاتی رفتار ناقابلِ یقین اور واقعی حیرت انگیز ہے۔

    ظفر الدین محمود کہتے ہیں کہ چین کے ترقیاتی تجربات ،دنیا بھر میں مزید توجہ اور تحقیق کے حق دار ہیں۔ چین کی ترقی کے عینی شاہد اور شریک کار کے طور پر وہ خود کو نہایت خوش نصیب بھی سمجھتے ہیں اور ایک احساس ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا مشن یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ چین کو سمجھیں، تاکہ گلوبل ساوتھ ممالک اپنے لیے موزوں ترقیاتی راستہ تلاش کر سکیں اور تیز رفتار معاشی و سماجی ترقی کے ذریعے عوام کو فائدہ پہنچا سکیں۔اسی مقصد کے تحت، انہوں نے "انڈر سٹینڈنگ چائنا" فورم قائم کیا، جو سیمینارز کے انعقاد، کتب اور اخبارات کی اشاعت کے ذریعے چین کی ترقیاتی تاریخ اور کامیاب تجربات پاکستان کے مختلف حلقوں تک پہنچاتا ہے، تاکہ دیگر گلوبل ساوتھ ممالک بھی ان سے سیکھ سکیں۔

    یہ فورم پاکستانی نوجوانوں کو چین کے بارے میں جاننے اور چینی نوجوانوں کے ساتھ وسیع تبادلۂ خیال کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ظفر کالدین محمود کے مطابق، پاک۔چین تعاون کے مسلسل فروغ کے ساتھ چین کی مزید کمپنیز پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور مزید پاکستانی طلبہ تعلیم حاصل کرنے چین جا رہے ہیں۔

    دنیا کے بلند ترین درے ، درّہ خنجراب سے گزرنے والی قراقرم ہائی وے کی مشترکہ تعمیر سے لے کر آج "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو"کے تحت پاک۔چین اقتصادی راہداری کی اعلیٰ معیار کی تعمیر تک، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تبادلہ اور تعاون مسلسل گہرا ہو رہا ہے۔

    ظفر الدین کی رائے میں ، چین کی ترقی کا سفر قیمتی تجربات سے بھرپور ہے اور اس کی شاندار کامیابیاں چینی خصوصیات کے حامل سوشلسٹ راستے کی اہمیت کو ثابت کرتی ہیں۔ چین کی ترقی دوراندیشی کی حامل معاشی پالیسیز ، مستحکم سماجی ماحول اور اصلاحات و کھلے پن کے دوران مسلسل بہتر ہوتی حکمرانی کی صلاحیت کا نتیجہ ہے اور ان تجربات سے سیکھنا گلوبل ساوتھ ممالک کے لیے بے حد اہم ہے۔

    ظفر الدین محمود کا ماننا ہے کہ چین کی ترقی نے نہ صرف اس کے اپنے عوام کو فائدہ پہنچایا ہے بلکہ عالمی ترقی کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ چونکہ انہیں چین کے ترقیاتی سفر کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے اس لیے وہ خود کو اس بات کا ذمہ دار سمجھتے ہیں کہ چین کی کہانی اور اس کے تجربات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔

    ویڈیوز

    زبان