• صفحہ اول>>دنیا

    چین کا اسرائیل سے آبادکاری سرگرمیاں اور فلسطینی سرزمین پر قبضہ بند کرنے کا مطالبہ

    (CRI)2026-02-20

    اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو چھونگ نے 18 فروری کو اسرائیل فلسطین مسئلے پر سلامتی کونسل کے ایک کھلے اجلاس میں کہا کہ اسرائیل کو عالمی برادری کے مطالبات قبول کرتے ہوئے آبادکاری کی سرگرمیاں اور فلسطینی سرزمین پر قبضہ کرنے کا عمل فوری طور پر بند کرنا چاہیے، اور فلسطینی قومی اتھارٹی کی حکمرانی کی بنیاد کو کمزورکرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

    فو چھونگ نے کہا کہ مسئلۂ فلسطین کے آج تک حل طلب رہنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دو ریاستی حل پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور فلسطین ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم نہیں ہو سکا۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ فلسطینیوں کا ہے۔ غزہ کے مستقبل کے حوالے سے کسی بھی انتظام کو "فلسطینیوں کے ہاتھوں فلسطینی حکمرانی" کے اصول پر عمل کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ ممالک کے جائز تحفظات کو مدنظر رکھنا چاہیے، اور اسے "دو ریاستی حل" کے مطابق ہونا چاہیے۔ چین تمام متعلقہ فریقوں خصوصاً اسرائیل سے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری اور تمام حملے بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

    فو چھونگ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل نے حال ہی میں مغربی کنارے میں اراضی کی رجسٹریشن اور انتظامی و نفاذی اقدامات کے دائرۂ کار میں توسیع کے فیصلے کیے ہیں۔ یہ فیصلے اوسلو معاہدے، بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ چین فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی بحالی کے منصفانہ نصب العین کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور "دو ریاستی حل" کے نفاذ کو فروغ دینے اور مسئلہ فلسطین کے جلد از جلد ایک جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے حصول کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

    ویڈیوز

    زبان