18 فروری کو جاپانی ہاؤس آف کونسلرز میں وزیر اعظم کی نامزدگی کے انتخابات میں رائے شماری کے دوسرے مرحلے میں، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر سانائے تاکائیچی نے نصف سے زیادہ ووٹ حاصل کیے اور جاپان کی نئی وزیرِاعظم کے طور پر انتخاب کی توثیق حاصل کر لی۔
مقامی وقت کے مطابق 17 فروری کو، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے ایک رپورٹ جاری کی، جس میں جاپانی حکومت کو منتبہ کیا گیا کہ وہ جاپان کے مرکزی بینک کی آزادی کو برقرار رکھے، مالیاتی توسیع کو کنٹرول کرے، اور لوگوں کے ذریعہ معاش کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اصرافی ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات سے گریز کرے۔ سمجھا جاتا ہے کہ مارکیٹ اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ سانائے تاکائیچی کی جانب سے " اصرافی ٹیکس کو صفر کرنے" کے دو سالہ عزم کے ساتھ ساتھ آیا وہ جاپان کے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی مخالفت کریں گی کہ نہیں ۔ مالی پالیسی کے حوالے سے آئی ایم ایف کا خیال ہے کہ مالی پالیسی کو قلیل مدت میں مزید نرم نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ سانائے تاکائیچی کی مجوزہ "ذمہ دارانہ اور فعال مالی پالیسی" سے متصادم ہے۔ آئی ایم ایف نے نشاندہی کی کہ مسلسل بلند قرضوں کی سطح اور بگڑتی ہوئی مالی صورتحال نے جاپانی معیشت کو جھٹکوں کے ایک سلسلے سے دوچار کر دیا ہے۔



