ایران کی جانب سے ملنے والی 24 تاریخ کی اطلاعات کے مطابق، ایرانی اسلامی انقلابی گارڈز کی زمینی فوج نے ملک کے جنوبی ساحلی علاقے میں فوجی مشق کی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مشق کا مقصد "موجودہ خطرات کے پیش نظر جدید ترین حکمت عملیوں کی مشق کرنا اور جنوبی ساحلی علاقوں اور جزائر کی حفاظت کو برقرار رکھنا ہے۔"
مقامی وقت کے مطابق 24 تاریخ کے اوائل میں، 12 امریکی F-22 لڑاکا طیارے برطانیہ سے اسرائیل کے لیے روانہ ہوئے۔ ایک طیارہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے واپس لوٹ گیا، جبکہ باقی 11 طیارے اسی روز اسرائیل پہنچ گئے اور انہیں اسرائیل کے جنوب میں ایک فضائی اڈے پر تعینات کر دیا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس قسم کا لڑاکا طیارہ کئی مشن انجام دے سکتا ہے، جس میں دشمن کی فضائی حدود میں داخل ہونااور فضائی دفاعی نظام اور ریڈار کو تباہ کرنا شامل ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام ممکنہ طور پر اسرائیل کو ایرانی میزائل حملے کے جواب کے لیے تیار کرنا ہے۔
24 فروری کو، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے کہا کہ ایران کے معاملے پر، ٹرمپ کا ترجیحی حل ہمیشہ سفارت کاری ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر وہ طاقت کے استعمال کے لیے بھی تیار ہیں، تاہم "حتمی فیصلے کا اختیار ہمیشہ صدر ٹرمپ کے پاس ہے۔"
مقامی وقت کے مطابق 24 تاریخ کی رات کو ، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کے گزشتہ دور میں طے پانے والے مشترکہ نکات کی بنیاد پر، ایران جنیوا میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا اور وہ کم سے کم وقت میں ایک منصفانہ اور معقول معاہدے تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کا بنیادی موقف بالکل واضح ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری حاصل نہیں کرے گا، اور ساتھ ہی ایرانی عوام جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے اپنے حق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔



