4 مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کی انٹرنیٹ ڈویلپمنٹ سے متعلق 57ویں شماریاتی رپورٹ کے مطابق، چین میں تخلیقی مصنوعی ذہانت (AI) کے صارفین کی تعداد دسمبر 2025 میں 602 ملین تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 141.7 فیصد کا اضافہ ہے جب کہ پینٹریشن ریٹ ، سال بہ سال 25.2 فیصدی پوائنٹس بڑھ کر 42.8 فیصد تک پہنچ گیا۔
چودہویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت (2021-2025) کے دوران، اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں میں تیزی سے تخلیقی اے آئی کا انضمام ہوا اور یہ چین کی ڈیجیٹل اور انٹیل جنٹ تبدیلی کا ایک اہم محرک بن گیا۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد 2012 میں، سی پی سی کی مرکزی کمیٹی نے شی جن پھنگ کی قیادت میں اے آئی کی ترقی کو ترجیح دی، اعلیٰ سطحی ڈیزائن اور پالیسی کی ہم آہنگی کو مضبوط کیا تاکہ اس میدان میں منظم ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
2025 میں، چین میں AI کی کمپنیوں کی تعداد 6,000 سے تجاوز کر گئی، جبکہ تخمینہ ہے کہ اے آئی کی بنیادی صنعت کی مالیت1.2 ٹریلین یوان (تقریباً 173.87 بلین ڈالر) سے زیادہ ہے۔ ملک کی انٹیلی جنٹ کمپیوٹنگ پاور کی گنجائش 1,590 EFLOPS، تک پہنچ گئی۔
حالیہ برسوں میں، چین نے اے آئی میں بنیادی تحقیق کو بڑھایا ہے اور اب دنیا میں والیم اور اثر کے اعتبار سے اس کے اے آئی مقالوں کی درجہ بندی بہترین ہے۔2025 کے عالمی حقوق املاک دانش کی تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق، چین دنیا میں اے آئی سے متعلقہ پیٹنٹس کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے، جو کل کے 60 فیصد کے مساوی ہے۔



