17فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)ہیلو! میں کھو کھو ہوں، بہت خوش خوراک ہوں! آج ہم ،چین کے روایتی تہوار ، جشنِ بہار جسے عام طور پر چینی سالِ نو بھی کہا جاتا ہے جیسے اہم تہوار کے پکوانوں کے بارے میں جانیں گے ۔تو پھر آئیے ایک منٹ میں جشنِ بہار میں خاندانوں کے دوبارہ ملنے اور ایک ساتھ روایتی کھانوں سےلطف اٹھانے کے لمحات کی دلکشی اور جوش کو جانتے ہیں۔
روایتی چینی قمری کیلنڈر کے مطابق، جشنِ بہار سال کا پہلا دن ہوتا ہے ،پہلے مہینے کا پہلا دن ،جو نئے سال کی شروعات کی علامت ہے۔ جشن بہار کے اس میلے میں لوگ پرانے سال کو الوداع کہنے اور نئے کا استقبال کرنے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کرتے ہیں، خوش قسمتی و امن کی دعا کرتے ہیں، نیز خاندانی ملاپ اور ہم آہنگی کا جشن مناتے ہیں۔ اس پورے دور کو "گو نیان" (سال پار کرنا ) کہا جاتا ہے۔
قدیم زمانے میں جشنِ بہار کا آغاز قربانی کی عبادت سے شروع ہوتا تھا۔ قدیم لوگ زرعی موسموں کے مطابق، سال کے آغاز پر آسمان، زمین اور آباؤ اجداد کے لیے نذرانے پیش کرتے تھے، ایک پرسکون اور خوشحال سال کی دعا کرتے تھے۔ بعد میں ان رسومات میں، "نیان" درندے کی کہانیاں شامل ہو گئیں اور پھر بتدریج ، بری روحوں سے بچنے کے لیے سرخ اشیا سے سجاوٹ کرنا اور دعاؤں کے لیے رات بھر جاگنا جیسی روایات اس تہوار کا حصہ بنتی گئیں ۔ یہ روایات ہزاروں سالوں سے نسل در نسل منتقل ہوتی آ رہی ہیں، جس کی وجہ سے جشنِ بہار چینی لوگوں کا محبوب ترین تہوار ہے۔
جشن کا جوش اور ولولہ خاندان کی افراد کے خصوصی عشائیے سے شروع ہوتا ہے! اگرچہ شمالی اور جنوبی چین کے رسوم و رواج مختلف ہیں، لیکن کھانے کا بنیادی جز ہمیشہ ایسا پکوان ہوتا ہے جس کا مفہوم ، خوش قسمتی ہو۔ شمال میں ڈمپلنگ، جنوب میں خشک کیا گیا نمکین گوشت اور مچھلی سال بہ سال فراوانی اوراس میں اضافے کی علامت مانی جاتی ہیں۔ ہر پکوان مل کر رہنے کی مٹھاس اور نئے سال کی توقعات کی عکاسی کرتا ہے۔ کھانے کے علاوہ، جشن بہار کی دیگر روایات بھی گہرائی کے ساتھ چینی ثقافت سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان میں جشن بہار کے اشعار چسپاں کرنا، لالٹینیں لٹکانا، ساری رات جاگنا، نوجوان نسل کا (سرخ لفافے) وصول کرنے کے لیے بزرگوں کو نئے سال کی مبارکباد دینا اور ٹیمپل فیئرز کا دورہ کرنا شامل ہیں تاکہ غیر مادی ثقافتی ورثے کی قدر کا اجاگر کیا جائے۔
آج، جشن بہار کی تقریبات نئے رجحانات کے ساتھ ترقی کر رہی ہیں۔ نوجوان اپنے خاندانوں کو تعطیلات منانے کے لیے دوسرے شہروں یا ملکوں میں لے جاتے ہیں ، بہت سے لوگ دیہی علاقوں کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ جشن کے حقیقی ذائقے اور مقامی ماحول کو دوبارہ محسوس کر سکیں۔ ٹیمپل فیسٹیولز صرف کھانے پینے اور چہل قدمی کے مقامات سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں، یہاں غیر مادی ثقافتی ورثے کے تجربات اور ورچوئل رئیلٹی کی تعامل نے تفریح کو ثقافتی جذبے کے ساتھ ملا دیا ہے۔ خاندانوں کے ملنے کے اہم موقعے پر منعقدہ عشائیوں کے انداز بھی جدید ہو رہے ہیں، ہوٹل پیکجز اور گھر میں نجی شیف کی خدمات حاصل کرنا گھر کے افراد کو باورچی خانے کے کاموں کے بوجھ سے آزاد کر رہے ہیں۔
2006 میں جشنِ بہار کو چین کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کے پہلے بیچ میں شامل کیا گیا تھا، آج سالِ نو کا یہ تہوار وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اس کے ماحول کی گرم جوشی سرحدوں کوعبور کر رہی ہے۔بہت سے غیر ملکی سیاح خاص طور پر اس تہوار کے اصل رنگوں کو دیکھنے اور ان رسوم و روایات کا حقیقی تجربہ حاصل کرنے کے لیے چین کا سفر کر رہے، جس سے جشنِ بہار " عالمی ثقافتی دعوت نامہ" بن گیا ہے۔



