29 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن) ہسپانیہ سے تعلق رکھنے والی ماہرِ امور چین اور گریناڈا یونیورسٹی میں چینی ادب کی پروفیسر ایلیسیا ری لنکوئے الیٹا نے کئی دہائیوں تک قدیم چین کی زبان، جمالیات اور ثقافتی روح کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ، تھانگ شاہی دور کے ماضی کے دارالحکومت چھانگ آن اور موجودہ دور کے شہر شی آن میں ماضی اور حال کا ایک نیا تجربہ کیا۔ یہ تجربہ روایتی مسودے یا چھپی ہوئی کتاب کے ذریعے نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ہوا۔
ان کے اس سفر کا آغاز شی آن میں شائنشی چھیان فان ینگ ہائی کلچرل میڈیا میں ہوا ، جہاں ڈیجیٹل آلات نے ماضی اور حال کا ایک کمال ملاپ کیا ۔ تھانگ شاہی دور کی طرز کے لباس میں ملبوس، وہ اے آئی سے تیار کردہ تاریخی منظر میں قدم رکھتی ہیں جہاں وہ تھانگ شاہی دور کی سب سے مایہ ناز ادبی شخصیت اور اپنے پسندیدہ چینی شاعر، دو فو، کے ڈیجیٹل کردار کے روبرو آتی ہیں۔ بصری تخلیق، ورچوئل منظر سازی اور مکالمے کے ذریعے وہ سب جو پہلے صرف صفحات پر موجود تھا، اب سامنے نظر آنے لگا اور محسوس ہونے لگا۔
چھویانگ فلائنگ تھیٹر میں، ٹیکنالوجی نے اس ملاقات کو قدیم شہر چھانگ آن کے ایک وسیع وژن میں تبدیل کر دیا۔ 270 ڈگری کی فور کے ڈوم سکرین اور متحرک نشستوں کے ذریعے، ایلیسیا نے تھانگ شاہی دور کے دارالحکومت پر "پرواز" کی، جہاں ڈیجیٹل طور پر تخلیق کردہ محل، سڑکیں اور مناظر موجود تھے۔
ان کا یہ سفر سکرین سے حقیقت میں آتا ہے جہاں انہوں نے چانگ آن تھیم بلاک کا رخ کیا اور اس دور کی شہری ثقافت کا ایک زیادہ "پرسنل ورژن "دریافت کیا۔ شاہی دور کے لباس پر مشتمل ایک اے آئی آئینے نے ان کے چہرے کو چند سیکنڈز میں تبدیل کر دیا، جبکہ AR انسٹالیشنز ، لائیو پرفارمرز اور چائے پیش کرنے والا روبوٹ ایسے لمحات تخلیق کرتا تھا جہاں قدیم ماحول اور جدید ٹیکنالوجی خوشگوار انداز میں ہم آہنگ ہوتے ہیں۔
ایلیسیا کے لیے، یہ تجربہ صرف ٹیکنالوجی کا مظاہرہ نہیں تھا۔ اس نے یہ اجاگر کیا کہ ماضی کو کس طرح دوبارہ تعمیر اور تشریح کیا جاتا ہے۔ اے آئی اور انٹرایکٹو میڈیا کے ذریعے، تھانگ سلطنت ایک ایسی دنیا بن گئی جس میں وہ عارضی طور پر داخل ہو سکتی تھیں اور سوالات کر سکتی تھیں — ایک ایسی دنیا جو یہ دکھاتی ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز ، تاریخ کے ساتھ تعامل کے طریقے کو کس طرح تبدیل کر رہی ہیں۔



