
ڈاکٹر محمد شہباز ، صوبہ سیچوان کے شہر چھنگ دو میں ایک روبوٹک سرجری ٹریننگ کے دوران ( تمام تصاویر محمد شہباز کی فراہم کردہ ہیں)
3 جون 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)چائنا-پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (سی پی ایم اے) کے صدر، ڈاکٹر محمد شہباز ایک مایہ ناز پاکستانی ڈاکٹر ہیں جو اس وقت چین کے شہر چھنگ دو میں ایف ڈی ایس کنسورشیم میں شعبہِ بین الاقوامی تعاون کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر شہباز کا چین کے ساتھ تعلق بہت پرانا ہے ، وہ ایسے کہ انہوں نے ابن انشاء کا مشہور سفرنامہ "چلتے ہو تو چین کو چلیے" پڑھا تھا اور تب انہوں نے کنگ فو ماسٹرز اور سائیکلز کی سرزمین کا خواب دیکھا تھا۔ لہذا جب 2006 میں محمد شہباز کے گھر والوں نے انہیں چین میں طبی تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا، تو وہ 18 سالہ نوجوان طالب علم جو پہلے ہی اس ملک سے متاثر تھا اس نے سوچا کہ چین جاکر پڑھائی کرنا ایک شاندار تجربہ ہوگا اور بس پھر چین کے لیے رخت سفر باندھ لیا ۔
چین ، کل اور آج
محمد شہباز تعلیمی سفر کے آغاز پر ، مشرقی چین کے صوبے شان دونگ کے شہر جی نان پہنچے، تو انہیں گاڑیوں، برقی بسوں اور میٹرڈ ٹیکسیوں والاایک ایسا ملک نظر آیا کہ جو ایک بڑی تبدیلی کے دہانے پر تھا۔
اس دور کو یاد کرتے ہوئے شہباز بتاتے ہیں کہ اس وقت صرف ایک، 20 منزلہ عمارت جی نان کی سب سے اونچی عمارت تھی۔ تیز ترین ٹرین تقریباً 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی تھیں جو پاکستان کی ریلوے کے برابر تھی۔ جی نان سے کوہِ تھائی شان تک کا سفر تقریباً ایک گھنٹہ لیتا تھا، جب کہ جی نان سے شنگھائی تک رات کی کوچ میں 10 گھنٹے لگتے تھے اور بین الاقوامی کالز کے لیے آئی پی کارڈز پر انحصار کرنا پڑتا تھا ۔مجموعی طور پر اس وقت کے جی نان میں فلک بوس عمارات بہت کم تھیں، عوامی نقل و حمل کا نظام بھی زیادہ ترقی یافتہ نہیں تھا اور بین الاقوامی سہولیات بھی کم تھیں بہت سے علاقے روایتی انداز کے حامل تھے اور ٹیکنالوجی سے بھی منسلک نہیں تھے ۔
یہ وہ دور تھا کہ جب چین کے ترقیاتی سفر میں بہت تیزی کے ساتھ نئی اور انقلابی تبدیلیاں سامنے آرہی تھیں اور محمد شہباز نے اس منظر نامے میں ان تمام تبدیلیوں کو خود اپنی نظروں کے سامنے رونما ہوتے دیکھا۔ آج، وہ تیز رفتار ریلوے، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور 5 جی نیٹ ورکس کی رفتار کے دور میں جی رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ چین کی ترقی کی رفتار اور پیمانہ حیران کن ہے۔

2010 میں چین کے شہر جی نان کی شان دونگ یونیورسٹی کے چھی لو ہسپتال میں محمد شہباز ، (درمیان میں ) دیگر ڈاکٹرز کے ساتھ ،پروفیسر نیو جن (بیٹھے ہوئے) سے ایک سکین کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں ۔
شعبہ طب کے ایک طویل سفر کی کہانی
جب محمد شہباز چین آئے تھے تب وہ چینی زبان کا ایک لفظ بھی نہیں جانتے تھے وہ یاد کرتے ہیں کہ شروع شروع میں تو انہوں نے "دو شاؤ چھیان" (کتنے کا ہے) اور "ؤو شیانگ مائی سائی" (میں سبزیاں خریدنا چاہتا ہوں) جیسے جملوں پر گزارا کیا۔ ہاسٹل کا مشترکہ باورچی خانہ ان کی زندگی کا محورو مرکز تھا جہاں تمام ہم جماعت مل کر کھانا پکاتے اور کھاتے تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ باورچی خانے میں کھانا پکانا ایک چیلنج یا مجبوری نہیں بلکہ سب کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے رکھنے والی ایک سرگرمی بن گیا تھا ۔
تعلیمی سال میں کورس کا حجم کافی پریشان کن تھا ۔ میڈیکل سکول میں چار سالوں میں علم الاعضا ، علم جراحی ، عِلمِ امراضِ نِسواں اور طبِ اطفال سمیت 45 مضامین شامل تھے ۔ لیکن وہ جی جان سے پڑھتے رہے اور پھر پروفیسر سون جن ہاو، جیا جی ہوئی، لیو جی یو اور نیو جن جیسے قابل اساتذہ کی رہنمائی میں وہ تحقیق کی جانب منتقل ہوئے۔ 2009 میں، انہیں سڈنی میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بہترین نوجوان مقرر کا اعزاز دیا گیا۔
محمد شہباز بتاتے ہیں کہ تربیت کے اس طویل عرصے میں ، زبان کی رکاوٹوں اور گھر کی یاد کے چیلنجز کے دوران،ان کے گھر والوں نے انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ اور ہمت دی ۔ وہ کہتے تھے کہ شہباز، تمہیں ایک بڑا اور مشہور ڈاکٹر بننا ہے اور واپس آ کر ہمارے گاؤں، شہر اور ملک کے غریب اور ضرورت مند لوگوں کی خدمت کرنی ہے ۔ اس سے انہیں کامیابی اور اہداف کے حصول کے لیے جذبہ اور جوش ملتا تھا۔

2013 میں، شان دونگ صوبائی ہسپتال میں جسمانی معائنے اور جراحی کی عملی تکنیکوں کے افتتاحی پروگرام میں، محمد شہباز کا (پہلی صف میں، دائیں سے تیسرے نمبر پر) ، ڈاکٹرز اور ساتھیوں کے ساتھ گروپ فوٹو۔
تعلیم کے تیسرے سال میں روایتی چینی طب ان کے نصاب کا حصہ بن گئی۔ ابتدائی رہنمائی کی بدولت، شہباز نے علم الاعضا اور روایتی چینی طب کی کتب کا انگریزی ترجمہ کیا۔ جب، آکیوپنکچر، موکسی بسشن اور نبض کی تشخیص کو باقاعدہ طور پر متعارف کرایا گیا، تو انہوں نے بغیر شک و شبہے کے تجسس کے ساتھ اسے سیکھا ۔ انہوں نے خود بھی کمر کے درد کے لیے آکیو پنکچر، اور حجامہ کو آزمایا اور جدید اے آئی ٹی سی ایم آلات کے ساتھ آنکھوں کی تشخیص کا بھی تجربہ کیا۔
ڈاکٹر محمد شہباز کا کہنا ہے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ مریضوں کو آرام پہنچانے کے لیے مغربی ادویہ ، روایتی چینی طب اور متبادل جڑی بوٹیوں سے علاج کے طریقوں کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔
2 جولائی 2017 کو، ڈاکٹر محمد شہباز بیجنگ سے پیرس کی جانب فضائی سفر کر رہے تھے۔ سفر کے دوران ایک چینی خاتون کو ہنگامی طبی امداد کی ضرورت پڑی ، کپتان نے جہاز میں اعلان کیا کہ اگر کوئی ڈاکٹر موجود ہو تو اس کی مدد درکار ہے۔خاتون مسلسل قے کر رہی تھیں اور ان کا جسم ٹھنڈا پڑتا جا رہا تھا ، فضائی سفر میں محدود وسائل کے باوجود، ڈاکٹر شہباز نے پرواز کے باقی تین گھنٹوں کے دوران خاتون کی حالت کو سنبھالے رکھا اور جونہی جہاز ایئرپورٹ پر اترا ایمبولینس وہاں موجود تھی۔ کیبن کے عملے نے تالیاں بجا کر ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا۔اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے ڈاکٹر شہباز کہتے ہیں کہ یہ ان کی زندگی کا بہترین دن تھا، کیونکہ یہ مناظر تو انہوں نے صرف فلموں میں دیکھے تھے۔ وہ ایک شخص کی جان بچانے میں کامیاب رہے تھے اور اس وقت انہیں اپنے پیشے پر فخر محسوس ہوا ۔
ڈاکٹر شہباز کا طبی شعبے کا یہ سفر آنے والے برسوں میں مزید ترقی کرتا گیا ، انہوں نے چینی حکومت کے سکالر شپ پر پی ایچ ڈی کیا ، فرانس میں روبوٹک سرجری کی فیلوشپ حاصل کی اور جی نان کے چھی لو ہسپتال میں پوسٹ ڈاکٹریٹ سٹڈیز کے ذریعے اپنی طبی تعلیم کے مدارج بلند کرتے گئے ۔

2017 فرانس ، ڈاکٹر محمد شہباز IRCAD میں ایک روبوٹک سرجیکل سسٹم پر کام کر رہے ہیں۔
سال 2021 میں ، محمد شہباز نے چائنا-پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (CPMA) کے قیام کا انیشئیٹو لیا ۔ 2025 میں، انہوں نے لاہور میں پاکستان کے پہلےمیڈیکل ٹورازم ہاسپٹل ، نیو انٹرنیشنل ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر کی بنیاد رکھی جو کہ توقع ہے کہ 2027 کے آخر تک فعال ہوجائے گا۔
چین میں دو دہائیوں سے مقیم ڈاکٹر شہباز چینی زبان بولنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے وفود کے مابین رابطے کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، اور ان کی پاکستانی مریضوں کی مدد کرنے کا عزم بھی کبھی کمزور نہیں پڑا ۔ ان کا یہ سفر ان کے خاندان کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنا اور ان کے چھوٹے بھائیوں اور ایک بہن نے بھی چین میں ہی تعلیم حاصل کی ہے۔
چین-پاکستان طبی تعاون کا مستقبل
اس وقت ڈاکٹر شہباز ،چھونگ چھنگ میں ایف ڈی ایس کنسورشیم میں شعبہِ بین الاقوامی تعاون کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ کنسورشیم جدید نیوکلیئر سسٹمز کی تحقیق و ترقی اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے اطلاق پر کام کرتا ہے۔
چائنا-پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سےانہوں نے، مشترکہ تحقیقاتی لیبز، نیوروسرجری کی تربیتی مراکز اور سسٹر یونیورسٹی پارٹنر شپ تک، باہمی طبی تعاون کی شاندار ترقی کا مشاہدہ کیاہے۔مثلاً ، 2026 میں، جی نان میں چین -پاکستان تربیتی و طبی تعلیم کا مرکز قائم کیا گیا، اس کے بعد وسطی چین کے صوبہ حو بے کی ووہان یونیورسٹی کے جونگ نان ہاسپٹل میں ، چائنا-پاکستان جوائنٹ نیوروسرجری ٹریننگ سینٹر اور میڈیکل ٹورازم سینٹر قائم کیا گیا۔
تاہم ڈاکٹر شہباز کا کہنا ہے کہ چائنا-پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے گزشتہ پانچ سالوں میں جو کام کیا ہے وہ ادارہ جاتی تعاون اور مشترکہ منصوبوں تک محدود ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر چین اور پاکستان کے درمیان صحت کی دیکھ بھال کے تعاون میں بہتری کے لیے کام جاری رکھیں گے، جس سے مریضوں، طلبہ، ڈاکٹرز اور پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے متعلقہ پیشہ ور افراد کو فائدہ ہوگا۔
ڈاکٹر شہباز امید کرتے ہیں کہ چاہےچین پاکستان مشترکہ طبی تحقیق ہو ،طبی تعلیم یا صحت کی دیکھ بھال ہو، مستقل طور پر ایک ایسا امتیازی مرکز قائم کیا جائے گا جو دو طرفہ طبی تعاون کے ایک مستقل، عملی مرکز کے طور پر کام کرے گا۔



