
چین کے صوبے شان دونگ کے شہر چھنگ داو میں، FAW-Volkswagen کے مشترکہ منصوبے کی ایک ورکشاپ میں روبوٹک آرمز کے ذریعے گاڑیوں کے مختلف حصوں کو ویلڈ کیا جا رہا ہے۔(تصویر/لیانگ شیاوپھینگ)
24اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)حال ہی میں، کئی ملٹی نیشنل آٹومیکرز نے اپنے چینی شراکت داروں کے ساتھ طویل مدتی شراکت داریوں کی تجدید کی ہے۔جنرل موٹرز اور شنگھائی کی SAIC موٹرز نے 2047 تک اپنے تعاون کے مشترکہ منصوبے کی توسیع کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے، جنوبی چین کے صوبے گوانگ دونگ میں ہونڈا اور جی اے سی گروپ نیز ووکس ویگن اور SAIC موٹرز نے بھی اپنے مشترکہ منصوبوں کی توسیع کے معاہدے پر دستخط کیے۔ ان بڑے اداروں کی جانب سے چینی مارکیٹ میں بھرپور سرمایہ کاری، چینی مارکیٹ پر مکمل اعتماد کی علامت ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ ،ایک ایسے وسیع تر رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کے تحت چین اور دیگر ممالک کے مابین گاڑی سازی کے شعبے میں تعاون، روایتی ماڈلز سے آگے بڑھ کر ایک ایسے نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جو مشترکہ جدت، تعاون پر مبنی تحقیق و ترقی اور مشترکہ صلاحیت تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چین، دنیا کی سب سے بڑی آٹو موبائل مارکیٹ ہے جہاں مسافر گاڑیوں کی فروخت، مسلسل 20 ملین یونٹ سالانہ سے زائد رہ رہی ہے۔ اس مارکیٹ کی زبردست صلاحیت ابھی کھل رہی ہے۔ ایک مکمل صنعتی نظام، ٹیکنالوجی کی جدت کے لیے متحرک ماحول اور حقیقی دنیا میں استعمال کے منظرنامے، چین کو ایسے فوائد فراہم کرتے ہیں جو کہیں اور حاصل کرنا مشکل ہیں۔
اسی وقت، چین کے ادارہ جاتی کھلے پن کی باضابطہ توسیع اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کی کوششیں مختلف قسم کے کاروباروں کے لیے ملک میں کام کرنے اور کام کو ترقی دینے کے لیے ایک ایسی مستحکم بنیاد فراہم کر رہی ہیں کہ جہاں پر مستقبل کی صورتِ حال کے حوالے سے پیش گوئی کرنا ممکن ہے۔ متعدد کثیر قومیتی گاڑی ساز کمپنیز کے لیے چین صرف ایک وسیع "کنزیومر مارکیٹ" ہی نہیں بلکہ مصنوعات اور ٹیکنالوجی کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بھی ہے۔

ہنڈا چائنا نے جی اے سی ہنڈا اور دونگ فینگ ہنڈا کے ساتھ مل کر آٹو چائنا 2026 میں مختلف نمائشیں پیش کیں۔(تصویر: بشکریہ ہنڈا چائنا)
جرمن آٹو موٹیو اکانومسٹ ، فرڈی نینڈ ڈیوڈین ہوفر کے مطابق، چین سے نکلنے کا مطلب نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی آٹو موٹیو مارکیٹ سے دستبرداری ہے بلکہ دنیا کے سب سے جدید صنعتی نظام سے تعلقات ختم کرنا بھی ہے۔
چینی اور غیر ملکی تعاون کی گہرائی میں ایک اہم تبدیلی بھی نظر آتی ہے۔ ابتدائی دہائیوں میں، اس تعاون کا مرکز ٹیکنالوجی درآمدات تھیں۔ آج، کثیر قومیتی کمپنیز اپنی زیادہ توجہ، مشترکہ جدت، مشترکہ تحقیق و ترقی اور چین میں صلاحیت کی مضبوطی پر مرکوز کر رہی ہیں۔ چین اب ٹیکنالوجی کے درآمد کنندہ سے عالمی تحقیق و ترقی کے مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔
جیسے جیسے عالمی آٹو موٹیو صنعت ،برقی اور ذہین ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ رہی ہے، چین کی آٹو موٹیو صنعت میں تبدیلی اور ترقی کی رفتار بھی تیز ہو رہی ہے جو مسابقتی منظرنامے میں گہری تبدیلیاں لا رہی ہے۔ یہ تبدیلیاں چینی اور غیر ملکی تعاون کو مزید گہرا کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کی شمولیت کی طرف بڑھا رہی ہیں۔
دی وال سٹریٹ جرنل کا مشاہدہ ہے کہ چین کے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کی نئی صورتیں تلاش کرنے والے مغربی آٹو میکرز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مثال کے طور پر، فورڈ اور چین کی جی لی نے سپین میں ایک مشترکہ منصوبے کے قیام اور یورپی مارکیٹ کے لیے نئی توانائی کی گاڑیوں سے متعلقہ مصنوعات تیار کرنے کے لیے پیداواری صلاحیت کا اشتراک کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ مرسڈیز بینز نے 'مخصوص چینی حل' متعارف کروائے ہیں، جن میں متعدد ماڈلز ایسے ہیں جن میں چینی ٹیمز کے تیار کردہ صوتی معاون شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، بین الاقوامی گاڑی سازوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد مصنوعات کی وضاحت ، ٹیکنالوجی روڈمیپ کے فیصلوں اور کچھ عالمی ماڈلز کی ترقی کی قیادت بھی اپنی چینی ٹیمز کے حوالے کر رہی ہے۔
چین کی طرف سے فراہم کردہ مواقع روز بروز زیادہ متنوع ہوتے جا رہے ہیں، جس سے چینی-غیر ملکی آٹو موٹیو تعاون میں وسیع تر ترقی کی رفتار بڑھ رہی ہے۔
مارکیٹ کے انتخاب سے زیادہ قائل کرنے والی کوئی اور چیز نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں یک طرفہ پسندی اور تحفظ پسندی میں اضافہ ہوا ہے، جب کہ صنعتی و سپلائی چین کو توڑنے اور مینوفیکچرنگ کو منتقل کرنے کی آوازیں بھی وقتاً فوقتاً سنائی دیتی رہی ہیں۔ بین الاقوامی گاڑی سازوں کے فیصلے اور انتخاب اس مخالفت کا مؤثر جواب ہیں۔ گاڑی سازی کی صنعت، دنیا کی سب سے عالمی صنعتوں میں سے ایک ہے۔ ایک گاڑی کی تیاری میں ہزاروں چھوٹے بڑے پرزے اور آلات شامل ہوتے ہیں، جن کے لیے صنعتی و سپلائی چینز کے مابین وسیع ہم آہنگی اور قریبی باہمی انحصار ناگزیر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جو کئی دہائیوں کی صنعتی ترقی سے سامنے آئی ہے۔ صنعتی و سپلائی چینز میں زبردستی خلل ڈالنے سے نہ صرف پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکنالوجی کی ترقیاتی رفتار بھی سست ہوگی اور آخرکار تمام مارکیٹ کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ حقائق نے بار بار یہ ظاہر کیا ہے کہ وقت کے رجحان کے مطابق کھلاپن، تعاون، باہمی فائدہ اور کامیابی کے نتائج سب کے لیے ہی صحیح راستہ ہیں۔
ملٹی نیشنل آٹومیکرز کے لیے، چین میں طویل مدتی بنیادیں قائم کرنا، بنیادی طور پر وسیع تر مارکیٹ کے مواقع، جدت طرازی کے زیادہ متحرک ماحول اور ترقی کے لیے ایک زیادہ یقینی مستقبل کا انتخاب ہے۔
اصل تعاون کی وابستگی برقرار رکھتے ہوئے، ایک دوسرے سے سیکھتے ہوئے اور مل کر آگے بڑھتے ہوئے، چین کی آٹو انڈسٹری اور اس کے عالمی شراکت دار نہ صرف دونوں فریقوں کے لیے زیادہ قدر و قیمت اور مواقع پیدا کر سکتے ہیں بلکہ عالمی آٹوموٹیو صنعت کی تبدیلی میں ایک مستحکم قوت بھی فراہم کر سکتے ہیں اور نئے دور میں بین الاقوامی صنعتی تعاون میں باہمی فائدے کی مثال بھی قائم کر سکتے ہیں۔



