26اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 24اگست کو، 27 سال بعد چین کے اندرون منگولیا کے شہر اوردوس میں یِن یوجین کے گھر واپس آنے والے ریٹائرڈ امریکی معلم، رونلڈ ساکولسکی کے سامنے یِن نے وہ تازہ سبزیاں اور پھل پیش کیے جو اس زمین سے چنے گئے تھے جو ایک وقت میں ریتلا بے آب وگیاہ میدان تھی ۔ یہ دیکھ کر رونالڈ کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا،" یہ ایک کرشمہ ہے ، یہ کرشمے کے علاوہ اور کچھ نہیں"۔ یِن یوجین ایک قومی مثالی کارکن ہیں جنہوں نے ماووسو کے ریتلے علاقے میں جنگلات کی بحالی کے لیے چار دہائیاں وقف کی ہیں۔
1999 میں، رونالڈ ساکولسکی وسطی چین کے صوبے حہ نان میں انگریزی پڑھاتے تھے ۔ اس دوران انہیں صحرا زدگی کے خلاف یِن یوجین کی بے پناہ محنت نے بہت متاثر کیا۔ انہوں نے اس علاقے میں ریت کے پھیلاؤ کے خلاف جدوجہد میں یِن یوجین اور ان کے شوہر کی مدد کے لیے 5,000 ڈالر اکٹھے کیے۔ اگلے سال انہوں نے، ماووسو کے ریتلے علاقے کی جانب ایک طویل اور مشکل سفر کیا تاکہ وہ ین یوجین کے ساتھ مل کر اس علاقے میں شجر کاری کریں ۔ اس کے بعد 24 اگست 2026 تک دونوں کی دوبارہ کوئی ملاقات نہیں ہوئی ، رونالڈ امریکا چلے گئے اور ین نے اپنا سفر جاری رکھا۔
آج، 27 سال پہلے ملنے والی مالی معاونت سے لگائے گئے ننھے پودے ، 50,000 سے زیادہ گھنے ، تناور درختوں میں بدل چکے ہیں ۔



