• صفحہ اول>>کاروبار

    ملکیت سے تجربے کی طرف منتقلی: خدمات کی کھپت میں چین کی ترقی کو اجاگر کرتا خدمات کا تجارتی میلہ

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-09-15

    15 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 9 سے 13 ستمبر تک بیجنگ کے شوگانگ پارک میں، منعقدہ چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ ان سروسز میں، ثقافت و سیاحت کی خدمات کے لیے مخصوص نمائشی علاقے میں 413 نمائش کنندگان نے ثقافتی اور سیاحتی انضمام کے جدید ماڈلز کو پیش کیا۔ تاہم، اے آئی کے اثرات، ثقافت و سیاحت کے پویلین سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ اس ایونٹ کے دوران، انسان نما روبوٹس نے دو زبانوں میں ہدایات فراہم کیں، برین-کمپیوٹر انٹرفیس ڈیجیٹل آرٹ ورک تیار کیے اور اے آئی 360-ڈگری فوٹو بوتھ حقیقی وقت میں بلاک بسٹر طرز کی ویڈیوز بناتے نظر آئے۔ یہ سب ایک اہم رجحان کی نشاندہی کر رہے ہیں اور یہ کہ چین کی کھپت، مصنوعات سے تجربات کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔

    خدمات کی کھپت میں اضافہ

    اس سال کے چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ ان سروسز میں پہلی بار "چائنا سروسز" نمائشی زون قائم کیا گیا جس میں خدمات کی تجارت کے 12 بڑے شعبوں کے 140 سے زائد کیسز پیش کیے گئے۔ تقریباً 40 فیصد کیسز میں اے آئی، لارج ماڈلز اور انٹیلی جنٹ ایجنٹس جیسی بنیادی ٹیکنالوجیز شامل تھیں۔

    "چائنا سروسز" پویلین، سروسز ٹریڈ کی دنیا میں نئے کاروباری ماڈلز اور منظرناموں کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ نمائش میں ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کے لیے عمر کے موافق ڈیزائن کیے گئے حل شامل ہیں اور بچوں کی دیکھ بھال کے سمارٹ پلیٹ فارم، پیدائش سے لے کر پری اسکول تک صحت کے انتظام کو یکجا کرتے ہیں۔

    چائنا جنرل چیمبر آف کامرس کے صدر وانگ من نے میلے کے دوران ایک فورم میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان مصروف بوتھس کے پیچھے، خدمات کے شعبے میں چین کی ترقی کی رفتار اور امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ صارفین کی توجہ اب سامان پر بے حد انحصار کرنے سے ایک متوازن نقطہ نظر کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جس میں سامان اور خدمات دونوں شامل ہیں۔ یہ تبدیلی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی بدولت ہو رہی ہے جو نئے کاروباری ماڈلز کو جنم دے رہی ہیں۔

    سرکاری اعداد و شمار وانگ من اور CIFTIS کے دیگر مقررین کے خیالات کی تائید کرتے ہیں۔ اس سال کے پہلے سات ماہ میں، خدمات کے شعبے میں خردہ فروخت پچھلے سال کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہوئی، جو صارفین کی اشیا کی ریٹیل فروخت میں اضافے کی شرح سے 3.9 فیصدی پوائنٹس زیادہ ہے۔ یہ ترقی چین میں خدمات پر فی کس خرچ کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو 2025 تک 13,602 یوان (تقریباً 2,009 امریکی ڈالر) تک رہی اور یہ فی کس کل خرچ کا 46.1 فیصد بنتا ہے۔

    تجزیہ نگاروں کا اندازہ ہے کہ جیسے جیسے لوگوں کی دستیاب آمدن میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ملک میں صارفیت کا ماحول بہتر ہو رہا ہے، 15ویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت (2026-2030) کے دوران چینی صارفین کا، سروسز کے شعبے میں خرچ مزید بڑھ جائے گا۔ اپریل میں ریاستی کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایک حکومتی منصوبے میں، خدمات کی صنعت کے کل حجم کو 2030 تک 100 ٹریلین یوان سے زیادہ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    ان ممکنہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے، حکام نے مختلف پالیسیز اور اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ جولائی میں، چین نے اپنا پہلا پانچ سالہ منصوبہ شروع کیا، جو صرف صارفیت میں اضافے پر مرکوز تھا اور اس میں خدمات کی کھپت کو ایک اہم شعبے کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ اس منصوبے کا ہدف خاص طور پر بزرگوں اور بچوں کی دیکھ بھال، ثقافت و سیاحت نیز صحت اور کھیل کی خدمات جیسے شعبوں کے لیے مخصوص معاونت کے ساتھ فی کس خدمات پر خرچ کے حصے کو بتدریج بڑھانا ہے۔

    چین کی وزارت تجارت کے تحت بین الاقوامی تجارت اور اقتصادی تعاون کی چینی اکیڈمی کے ڈائریکٹر لی جون کے مطابق، خدمات کے شعبے میں 100 ٹریلین یوان کے سنگ میل تک پہنچنا نہ صرف ترقی کی علامت ہے، بلکہ اس کے ڈھانچے اور ترقی کے محرکات میں بنیادی تبدیلی کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔

    چینی خدمات، عالمی مواقع پیش کرتی ہیں

    کھیلوں کی خدمات کی نمائش میں، چین کے تیار کردہ "چائنا ہاک آئی" نظام نے بہت سے شرکا کی توجہ حاصل کی۔ یہ نظام تیز رفتار کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے گیند کی حرکت کو کھوجتا ہے اور مشکوک یا غیر واضح لمحات کی 3ڈی بصریات تخلیق کرتا ہے۔ یہ نظام اب متعدد بین الاقوامی ایونٹس میں استعمال ہو رہا ہے اور خدمات کی تجارت میں چین کی ترقی کو اجاگر کرتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پہلے سات ماہ میں 4.45 ٹریلین یوان کی تجارت ہوئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 8.3 فیصد کا اضافہ ہے۔ علم پر مبنی خدمات میں 6.6 فیصد اضافے کے ساتھ 1.96 ٹریلین یوان تک پہنچ گئی ہیں اور کل تجارت کا 44.1 فیصد ہیں۔

    چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ ان سروسز میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں چین کے سروسز برینڈز کو نمایاں کیا گیا ہے، جن میں سے 21 دنیا کے 100 سب سے قیمتی برینڈز میں شامل ہیں، جن کی مالیت 876.8 بلین امریکی ڈالر ہے۔ برینڈ فنانس ایشیا پیسیفک کے ایلیکس ہیگ نے نشاندہی کی کہ چائنیز سروسز برینڈز کی اہمیت بڑھ رہی ہے، جو "میڈ ان چائنا" سے "چائنیز سروسز" اور "چائنیز برینڈ" کی طرف ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی خدمات کی تجارت کو فروغ دینے کے لیے فعال نقطہ نظر عالمی سطح پر مزید امکانات لا رہا ہے۔ تاہم، خدمات کی بین الاقوامی تجارت کی سہولت میں اب بھی رکاوٹیں موجود ہیں۔ چین کی کونسل برائے فروغِ بین الاقوامی تجارت کی اکیڈمی کے صدر جاو پھنگ نے چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ ان سروسز کے کردار کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کی آزادی اور سہولت کو فروغ دیا جا سکے۔

    ویڈیوز

    زبان